ماسی نامہ (تابندہ جبیں)

ارے باجی صدیقہ کہاں ہو تم ؟
ارے آگئی۔۔
تم کہاں تھی تین دنوں سے آخر کیوں اتنی چھٹیاں کرتی ہو ۔شرم نہیں آتی ذرہ برابر بھی؟
ارے باجی کس بات کی شرم میں نے کوئی چوری تھوڑی کی ہے۔۔میں سیڑھیوں سے گر گئی تھی جس کی وجہ سے میرے پاؤں میں پلاستر چڑھ گیا تھا۔۔
پھر جھوٹ بول رہی ہو جھوٹ بول کے تھکتی نہیں ہو جہنمی الگ بن رہی ہو ۔
ارے باجی کام کروانا ہے تو کرواؤ ورنہ گھر بہت مل جائینگے مجھے اللہ کے فضل سے بہت عزت ہے میری اس شہر میں جس گھر جاؤ گی مجھے فوراً کام پر رکھ لیں گے۔
اچھا ٹھیک ہے کام تو کرو۔۔ اس قدر گندا کام کرتی ہو تم میرے تو کچھ سمجھ نہیں آتا کیا کروں؟
ہائے باجی یہ کسی باتیں کرتی ہو۔
اچھا یہ بتاؤاسلم کہاں گیا ہواہے ابھی تک آیا کیوں نہیں سارا گھر گندا پڑا ہے ۔ڈرائنگ روم کی صفائی تک نہیں ہوئی آج ہمارے خاص مہمان آئیں گے ۔
ہائے باجی سو دو سو اوپر سے دیں تو میں کردیتی ہو اچھا تم پیسوں کے بغیر کوئی کام نہیں کرو گی۔۔۔۔
باجی اگر دیں دو گی تو کچھ میرا بھی بھلا ہوجائیگا نہیں دینا تو کوئی مسلہ نہیں اللہ بڑا بادشاہ ہے وہ ہم غریبوں کی سنتا ہے۔
اچھا اچھا لے لینا پیسے ۔۔مگر صفائی ڈھنگ کی کرنا ۔
اچھا باجی اگر آج سالن پکا نا تو تھوڑا میرے چھوٹے بیٹے کے لئے نکال دینا قسم سے اُس کا بڑا دل کر رہا ہے ۔۔
اُف اُف شگفتہ تم کب سدھڑو گی۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں