پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوںسے آم کی پیداوار تیسرے سال بھی کم

پاکستان میںموسمیاتی تبدیلیوںسے آم کی پیداوار تیسرے سال بھی کم ہوئی ہے۔آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے رواں سیزن میںآم کی برآمد کا ہدف 25 ہزار ٹن کم کرکے ایک لاکھ ٹن مقرر کردیا، آم کی ایکسپورٹ کا آغاز 20 مئی سے ہوگا۔آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلی وحید احمد کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے پاکستان میں آم کے باغات پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں جس سے پیداوار میں نمایاں کمی کا سامنا ہے

انہوںنے کہا ہے کہ ایکسپورٹ کوالٹی کا آم دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ سال بھی ایکسپورٹ کا ہدف پورا نہ ہوسکا، اس سال ایکسپورٹ کا ہدف ایک لاکھ ٹن رکھا گیا ہے جبکہ گزشتہ سال ایکسپورٹ کا ہدف ایک لاکھ پچیس ہزار ٹن تھا۔رواں سیزن ایک لاکھ ٹن ایکسپورٹ سے 90ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات آم کی پیداوار کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکے ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مسلسل تیسرے سال آم کی پیداوار میں کمی کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں 18 لاکھ ٹن آم پیدا ہوتا ہے جس میں سے 70 فیصد پنجاب، 29 فیصد سندھ اور ایک فیصد خیبرپختون خوا میں پیدا ہوتا ہے، اس سال موسمیاتی اثرات کی وجہ سے پنجاب کی پیداوار 35 سے 40 فیصد جبکہ سندھ کی پیداوار 20فیصد تک کم ہے جس سے مجموعی پیداوار 6لاکھ ٹن تک کم رہنے کا خدشہ ہے، پنجاب میں موسمیاتی اثرات کی وجہ سے آم کی پیداوار میں 5لاکھ ٹن جبکہ سندھ میں ایک لاکھ ٹن کمی کا سامنا ہے اس طرح مجموعی پیداوار 18لاکھ ٹن کے اوسط کے مقابلے میں 12لاکھ ٹن رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں