میں صحافی ہوں (کامران مغل)

خوشی کی خبرلاتا ہوں
غم کی نوید سناتا ہوں
افلاس کے مارے بچوں کی
تصویر کھینچا ہوں

کسی کو رولاتا ہوں
کسی کو ہنساتا ہوں
میں قلم اٹھاتا ہوں
مضمون لکھتا ہوں

بھوکے ننگے بچوں پر
ماں کے بک جانے پر
اسکول کی چوکھٹ پر مرجانے پر
دوا کے مہنگے ہونے پر
بستر مرگ لگ کر تڑپنے پر
پھول کے بن کھلے مرجھانے پر
اندھی گولی لگنے پر
سارے المیے تحریر کرتا ہوں

کہ میں صحافی ہوں !
کیمرا اٹھاتا ہوں
ظلم کا ہر منظر دکھاتا ہوں
جو دیکھتا ہوں
وہی دکھاتا ہوں
اپنا دکھ چھپا کر اچھا دکھاتا ہوں
خبر کے پیچھے بھاگتا ہوں

ہاں میں صحافی ہوں!
بے آسروں کا ساتھی ہوں
آقاوں کا غلام سمجھا جاتا ہوں
روز جیتا روز مرتا ہوں
میں بھی اک صحافی ہوں

مگر!
میں یہ بھول جاتا ہوں
میری کوئی قدر وقیمت نہیں
مالک کے اشاروں پر چلتا ہوں
گرانی جو گزرے مالک پر
میں افسردہ سا ہو جاتا ہوں
اک جھنبش قلم سے
دھتکارا جاتا ہوں
افلاس کی دیوار پر مارا جاتا ہوں
پھر بھی معاشرے کے تیور دکھاتا ہوں
کہ میں صحافی ہوں !

میں بھولا رہتا ہوں
اپنی پیگار
اپنا سکون
پھر قلم اٹھاتا ہوں
کہ میں صحافی ہوں !
میں اک وحشیا سے بھی گیا گزرا ہوں
جو اپنا معاوضہ سائڈ ٹیبل سے اٹھاتی ہے
پیسے جو کم ہوں اک قیامت وہ مچاتی ہے
میں تو مالک کو غاصب بھی نہیں کہہ سکتا
کہ میں صحافی ہوں!

معاشرے کا روش چہرہ ہوں
انجان سی کیفیت میں
میں ہر روز دفتر جاتا ہوں
قلم کا لمس جب ملتا ہے
پھر ایسا دور چلتا ہے کہ
بس

پھر اتنا یاد رہتا ہے
میں صحافی ہوں
ہر دکھ کا تلافی ہوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں