ڈیڑھ کروڑافراد خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے،مفتاح اسماعیل

اسلام آباد:سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ بجٹ کی وجہ سے ایک سے ڈیڑھ کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے جائیں گے۔انہوں نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ملک خطرے میں ہے تو سب سے ٹیکس لیں، تنخواہ دار طبقے نے تو ٹھیکہ نہیں لے رکھا۔انہوں نے کہا کہ میں اپنے بچوں کے دودھ پر بھی ٹیکس دوں، پیکجڈ دودھ پر بھی ٹیکس دوں، بڑی بڑی پراپرٹی میں رہنے والے ٹیکس نہ دیں تو یہ زیادتی ہے، تنخواہ دار یا کاروبار کرنے والے کو ٹیکس برابر دینا چاہئے۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ کسی حکومت یا پارٹی نے کوئی قربانی نہیں دی، قربانی صرف تنخواہ دار طبقے، مڈل کلاس اور غریب نے دی ہے، ملک میں سب قربانی دیں گے تو سمجھ آتا ہے، مخصوص طبقہ قربانی سے استثنیٰ ہوجائے اور باقی قربانی دیں تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ایک فریم ورک بنانا پڑے گا، ریگولیٹر لانا پڑیں گے، حکومت نے اتنی مہنگی بجلی کردی اگر پرائیویٹ سیکٹر ہوتا تو اتنی مہنگی بجلی نہیں بیچتا، اب تو مقابلے میں سولر پینلز آگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملازمین کی تنخواہ بڑھا دی کوئی بات نہیں لیکن آپ نے بے حسی کے ساتھ خرچے بڑھا دیئے، کیا ضرورت تھی 24 فیصد اخراجات بڑھانے کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں