عمران خان اور خواتین کا حق وراثت

دین اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے، ہمارے دین میں جہاں خواتین کو بے پناہ عزت اور احترام سے نوازا گیا ہے، وہیں ان کے حقوق کو بھی مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے، جس میں نہایت اہم اور بنیادی حقوق وراثت ہے، جس کے بارے میں قرآن پاک کی ((سورۃ النساء)) میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ والدین اور رشتے داروں کے “ترکے” میں خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ، لڑکوں کا حصہ ہے اور والدین اور رشتے داروں کے “ترکے” میں خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ،، لڑکیوں کا بھی حصہ ہے اور یہ حصے خدا کی طرف سے مقررہ ہیں، اس تحریر کا مقصد حق وراثت کے قانون سے متعلق پیشرفت سے آگاہ کرنا ہے، جو وقت کی ضرورت بھی ہے اور ناگزیر بھی، نہایت افسوس اور ندامت کے ساتھ ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ لوگ دولت کو اپنا ایمان بناکر خوف خدا بھلاچکے ہیں، دولت کی لالچ نے جہاں خون سفید کردیا، وہیں خاندان نظام بھی شدید متاثر ہورہا ہے، جس کے باعث محبتیں، قربتیں ناپید اور دشمنیاں بڑھتی جارہی ہیں، سندھ ہو یا پنجاب، پختونخواہ ہو یا بلوچستان “لینڈ ریکارڈ” میں موجود نقائص کے باعث بھائیوں کی جانب سے بہنوں کی وراثت پر قبضہ، موروثی زمینوں کی تقسیم میں اختلافات، زمینوں پر دعویداری کے واقعات معمول کا حصہ ہیں، زمینوں کی آڑ میں قتل و غارت کے سینکڑوں واقعات بھی ڈھکے چھپے نہیں، ماضی میں کسی بھی وفاقی یا صوبائی حکومت نے اس اہم مسئلے پر توجہ دی اور نہ ہی اس سے ہونے والے نقصانات کے سدباب کیلئے کوئی اقدامات اٹھائے، اعلانات تو سب نے کئے لیکن عمل کی زحمت گوارہ نہ کی، کیوں کہ ان حکومتوں میں موجود اکثر و بیشتر وزراء، مشیر، اراکین اسمبلی بھی لینڈ گریبنگ میں بلواسطہ یا بلا واسطہ ملوث ہوا کرتے تھے تاہم اس دوڑ میں پختونخواہ نے تمام صوبوں کو مات دیدی ہے، سابق وزیراعظم اور چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر پختونخواہ میں تحریک انصاف کے دوسرے دور حکومت میں 5 اکتوبر 2021ء میں زمینوں کے انتقالات اور رجسٹری کے نظام کو شفاف بنانے کیلئے ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس پر ہنگامی بنیادوں پر کام کا آغاز کیا گیا، جوآج 2022ء میں تیزی کے ساتھ تکمیل کے مراحل میں داخل ہورہا ہے، پختونخوا حکومت اب تک 2251 موضع جات کا اراضی ریکارڈ ڈیجیٹل سسٹم میں تبدیل کرچکی ہے، جلد ہی یہ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کردیا جائے گا، مجموعی طور پر 3454 موضع جات میں سے 65 فیصد اراضی کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کیا جائے گا، لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹلائزیشن کا منصوبہ 2022 کے آخر تک مکمل ہوگا، صوبائی حکومت نے 40 اسٹیٹ آف دی آرٹ سروس ڈیلیوری سینٹرز بھی قائم کئے ہیں، ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہونے کےبعد زمین کے مالک کو موقع پر ہی اراضی کا فرد فراہم کیا جاتا ہے، جس کی سرکاری فیس وصول کی جاتی ہے جبکہ انتقال پر تاحال پابندی ہے، پابندی نہ ہوتو اس کام میں صرف 3 روز درکار ہوتے ہیں، حکومت زمین کے انتقال کی فیس ساڑھے 6 فیصد سے کم کرکے 2 فیصد کرچکی ہے، اگر زمینوں کا مکمل ریکارڈ کمپیوٹرائز ہوجائے تو نہ صرف عوام کی زندگی آسان ہوگی بلکہ دشمنیاں، عداوتیں، نفرتیں اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا سیاہ باب بھی بند ہوجائے گا۔

تحریر: حفیظ الرحمان بونیری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں