غرور کا سر نیچا

پاکستان میں سب سے آسان کام شاید پولیس پر تنقید کرنا رہ گیا ہے۔مانا پولیس میں دس خرابیاں ہیں لیکن اپنے اندر جھانکئے اور بتائیے خرابیاں کس میں نہیں۔ ہمارے ہاں تو اوے کا اوا بگڑا ہوا ہے۔۔کچھ دن قبل ہم نے دیکھا کہ کراچی کے علاقے کلفٹن میں ایک مہنگی گاڑی سے اترنے والا شخص پولیس کو اواہی تواہی بک رہا تھا۔ اپنے بچوں کی موجودگی وہ پولیس کی بری طرح بے عزتی کررہا تھا، پولیس والے اس سے نہایت تہذیب سے پیش آرہے تھے، لیکن وہ نہ جانے کس خمار میں تھا۔ اور چیخ چیخ کر پولیس دباؤ میں لینے میں کامیاب ہوگیا۔بعد میں پتا چلا کہ وہ ہائی کورٹ کا وکیل تھا، نام اسکا شمس الاسلام ہے۔ بے حد امیر کبیر اور بااثر وکیل ہے۔ اس کی پولیس سے کی گئی بدسلوکی کی وڈیو وائرل ہوگئی۔اور قانون حرکت میں آیا۔ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔ مانا اس پر چھوٹے موٹے ہی کیس بن سکے تھے، اور وکیل تو ویسے بھی بڑے سنگین کیسوں میں بھی چھوٹ جاتے ہیں، یہ شخص بھی اگلی صبح‌ ضمانت پر چھوٹ‌گیا ..لیکن اس کی گرفتاری کے بعد کی تصویریں بہرحال اس کے لئے بذات خود ایک بڑی سزا ہیں۔جو بتا رہی ہیں کہ قانون سے بڑھ کر کچھ نہیں۔اورغرور کا سر خدا ایک بار نیچا ضرور کرتا ہے۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں