یہ منہ اور سونف خوشبو کاپان (عبدالرحمان بیگ)

مین اسٹریم میڈیا ہو یا سوشل میڈیا گزشتہ 2 روز سے ہر جانب شہباز شریف،،، کرانچی اور پان کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔سچ یہ ہے کہ صدر مسلم لیگ ن کی جانب سے اہل کراچی کے تلفظ کامذا ق تو نہیں اڑایا گیا۔۔البتہ رپورٹر کے تلفظ اور منہ میں پان بھر سوال کرنے پر انھوں نے ہلکے پھلکے انداز میں بات ضرور کی ۔۔ لیکن کیا کیجئے اس میڈیا اور سوشل میڈیا کا جو ہمیشہ اصل بات کے بجائے ہاہاکار پر جانا پسند کرتا ہے۔
سوشل میڈیا پر خادم اعلی کی خوب بھد اڑائی جارہی ہے۔ شہباز شریف کے بیان اور اس سے نکلنےوالے کسی پہلو پر بات کرنے سے پہلے کچھ بات “پان” پر ہوجائے کہ جس کے باعث یہ ہنگامہ برپا ہے۔ پان پاکستان،ہندوستان سمیت برصغیر کی ثقافت کااہم حصہ ہے۔ماضی میں پان لگانے اور کھلانے کا کام تنبولن کے ذمے ہوتا تھا لیکن پھر آہستہ آہستہ زمانہ بدلا اور سڑکوں پر پان کے کھوکھے کھلنے لگے یوں پان والا لوگوں کے ذہنوں میں یاد رہ گیا اور تنبولن قصہ پارینہ بن گئی۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس خطے میں پان کی روایت مغلوں کے دور میں شروع ہوئی لیکن کچھ مورخین کا کہناہے پان اس سے کئی پہلے اس خطے کی سوغات تھا۔البتہ مغلیہ دور میں پان کھانے کا چلن خوب عام ہوا۔البیرونی کی کتاب”کتاب الہند” میں بھی پان کاتذکرہ ملتا ہے۔ حضرت امیر خسرو کا کہناتھا پان منہ کو خوشبو دار بناتا ہے۔اور غالباً یہی وجہ ہے کہ صوفی حضرات بھی پان سے خوب شغف فرماتےہیں۔ مغلیہ دور کاذکر ہو تو وہاں تقریبا ہر بادشاہ ہی پان ذوق رکھتا تھاا ور پان کھانا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی تھی۔ پان کا ہر پتہ کیوڑے اور عرق گلاب سے دھویا جاتا تھا۔ پان میں ڈالنے کیلئے چھالیہ کو صندل کےپانی میں جوش دیکر ابالاجاتاتھا جبکہ چونا زعفران کی خوشبو سے مہک اٹھتاتھا۔پان میں ڈالنے کی دیگر اشیا جن میں گل قند،کتھا،،سونف،لونگ اور الائچی کو بھی اسی طرح مختلف مراحل سے نکال کر شامل کیاجاتاتھا۔11 پتوں کے پان کا ایک شاہی بیڑا ہوتا تھا اورفرمانروا کی جانب سے پان کا بیڑا اٹھاتے ہی ہر ضیافت اختتام کو پہنچ جاتی تھی۔ الغرض پان ہماری تہذیب سے اس قدر جڑا ہے کہ ہر خاص و عام اس کا شوقین ہے اور قیام پاکستان کے بعد مہاجروں کے ساتھ ساتھ “پان کلچر” نے بھی ہجرت کرلی ۔ اب پاکستان خصوصا کراچی میں بھی جگہ جگہ پان کی گلوری ملنے لگی۔پاکستان میں پان بھارت،بنگلادیش اور سری لنکا سے برآمد کیاجاتاہے۔سادہ الائچی، سونف خوشبو،،میٹھا پان،، کھوپراچھوہارا پان سمیت مختلف پان فیملیز میں خوب پسند کیے جاتےہیں اور دعوتوں کے مواقع پر لازمی رکھے جاتےہیں۔۔یہی نہیں طبی طور پر بھی پان کے ان گنت فوائد ہیں۔
پان کااحوال تو بہت ہوچکا اب آخر میں بات کرتےہیں خادم اعلی کی جنہوں نے شہر قائد کے گرم موسم میں مزاق کرنے کی اپنی سی کوشش کی۔۔ لیکن کیا کیجئے، کہ ہمارے میڈیا اور سوشل میڈیا میں حس مزاح سے ذیادہ حس غیض و غضب پائی جاتی ہے۔۔جس کا مظاہرہ ہم دیکھ رہے ہیں۔۔
بلکہ ان کے اس بیان پر آنے والا عجیب و غریب ردعمل بھی اس پورے معاملے کو المناک کامیڈی میں تبدیل کررہا ہے، جس میں سیاسی رہنما پان چبا، چبا کر دکھا رہے ہیں ۔۔
ایک دور تھا، جب ہمارے گھروں میں پاندان ہوتے تھے، جن پر ہماری دادی یا نانی اماں کا کنٹرول ہوتا تھا۔گھر میں اگلدان بھی ہوتا تھا، ہمیں چھوٹا سا پان دادی اس شرط پر دیتی تھیں کہ اگلدان میں ہی تھوکنا ہوگا۔۔ لیکن وہ دور چلا گیا۔۔نہ دادی اماں، نانی اماں رہیں، اور نہ ہی گھروں میں صاف ستھرے پاندان اور اگلدان رہے۔۔
اب شہر میں مکھیوں‌ کی طرح پھیلے پان کے کیبن ہیں ، پتی والے پان ہیں،گٹکا ہے، ماوا ہے ، مین پوری ہے اور شہر کی آلودہ دیواریں ہیں۔۔۔
!!!
نوٹ: اس مضمون کیلئے بی بی سی اردو پر شائع ہونےوالے سلمی ٰ حسین کےمضمون سےبھی استفادہ کیاگیاہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں