کراچی ڈیسک ایڈیٹرز ایسوسی ایشن کا قیام ۔پہلا پتھر

پاکستان کی صحافیت میں‌ عرصہ دراز سے، صحافت کےشعبے کے اصل ستون یعنی ڈیسک اور نیوز روم ارکان، جن میں‌ ، ایڈیٹرز ، پروڈیوسرز،تحریر نگار اور دیگر ادارتی ذمہ داریاں‌ نبھانے والے شامل ہیں‌،پس منظر میں دکھائی دیتے تھے،جبکہ مخصوص شعبے اور ان ہی کےمخصوص افراد آگے آگے نظر آتے تھے.
مندرجہ بالا متزکرہ ان ڈیسک ارکان کو سرکاری سطح پر کم علمی اور دیگر طبقہ فکر کی مفاد پرستی کی بنا پر نظراندازی کا سامنا رہا.۔یہ صورتحال گو کہ کئی دہائیوں سے جاری ہے تاہم ،حالیہ چند سالوں میں اس میں اس قدر شدت آچکی تھی کہ ڈیسک اسٹاف ، ایڈیٹرز اور نیوز پروڈیوسرز کو صحافی ماننے سے ہی انکار کیا جا نے لگا تھا . ایسے میں‌ ضروری ہوگیا تھا کہ کوئی پلیٹ‌ فارم ایسا بھی ہو جو ڈیسک یا نیوز روم ارکان کی آواز بنے.
اس سلسلے میں کچھ ‌ ہم خیال دوستوں‌ نے کراچی ڈیسک ایڈیٹرز ایسوسی ایشن کے قیام کی تجویز پیش کی .جس پرلبیک کی صدائیں‌ بلند ہوئیں‌، اور اس پر فوری عمل درآمد بھی شروع ہوگیا. اس تحریک کے روح‌ رواں‌ معروف صحافی ذاکر علی اعوان بنے.

چند روز کے قلیل عرصہ میں‌ ہی اس تحریک کو بڑی تعداد میں ‌صحافیوں‌ کی حمایت حاصل ہوگئی . یوں‌ بالا آخر کراچی ڈیسک ایڈیٹرز ایسوسی ایشن کی عبوری انتظامیہ کا اعلان بھی کردیا گیا۔۔
ذاکر علی اعوان عبوری انتظامیہ میں بطور چیئرمین فرائض انجام دیں گے ۔کیڈیا کی رابطہ کمیٹی کی سربراہی ساحر بلوچ کریں گے۔۔عابد خان ایکریڈیشن کارڈ کمیٹی کے انچارج ہونگے۔ ایسوسی ایشن کے دیگرعہدیداران میں غلام فرید ثانی، عدیلہ انعام خان،آصف تنولی ،عبدالرحمان بیگ اور دیگر شامل ہیں۔ کیڈیا اعلامیے کے مطابق عبوری سیٹ اپ آئین سازی اور الیکشن سے متعلق معاملات کو حتمی شکل دے گا۔۔۔ منتخب باڈی کے قیام تک تمام انتظامی امور بھی انجام دے گا۔۔۔ ابتدائی طور پر 7 کمیٹیاں بنائی گئی ہیں جن کی پیش کردہ رپورٹس کی روشنی میں مرکزی گورننگ کونسل 31 دسمبر2020 کو کیڈیا کے پہلے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کریگی ۔۔۔
کیڈیا کے قیام کو ڈیسک ارکان کے حقوق کی جدوجہد میں‌ پہلا پتھر قرار دیا جارہا ہے.جس نے صحافت کے ٹہرے پانی میں‌تلاطم پیدا کردیا ہے. امید ہے قابل اور دیانت دار صحافیوں‌ کی یہ تحریک نہ صرف ڈیسک ارکان ، بلکہ پورے میڈیا کیلئے ایک نیک شگون ثابت ہوگی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں