کراچی بدامنی، 1 گھنٹے میں 2 شہری قتل۔ رمضان المبارک میں ڈکیتی مزاحمت پر 52 افراد مارے گئے

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی حکومت ایک بار پھر قیام امن میں ناکام ہوگئے، آئی جی سندھ رفعت مختار اور کراچی پولیس چیف خادم رند کی تبدیلی کارگر ثابت نہ ہوسکی، جرائم میں کمی کے بجائے اضافہ ہورہا۔

نئے آئی جی سندھ غلام نبی میمن اور کراچی پولیس چیف عمران یعقوب منہاس کی تعیناتی کے باوجود کراچی میں امن نہ لوٹ سکا، بدامنی کی لہر میں تیزی آگئی۔

نارتھ کراچی میں ایک گھنٹے میں ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ کے مختلف واقعات میں 2 افراد سے زندگی جینے کا حق چھین لیا گیا، 3 افراد زخمی بھی ہوئے۔

پولیس کے مطابق نیو کراچی پاور ہاوس کے قریب کاٹھیا واڑ محلے میں ملزمان شہری یاسین سے لوٹ مار کررہے تھے، مزاحمت پر اس کی ٹانگ میں گولی مارکر بھاگنے لگے تو لوگوں نے پیچھا کیا تو ڈاکووں نے ان پر بھی فائرنگ کی، جس سے عامر جاں بحق جبکہ شاہد مسیح زخمی ہوا، مقتول نوکری کیلئے نکلا تھا۔

نارتھ کراچی آباد انڈا موڑ کے قریب ڈاکو پھل فروش کو لوٹنے آئے تو خریدار 70 سالہ حامد علی نے انہیں روکنے کی کوشش کی، جس پر ڈاکووں نے حامد علی کو گولیاں مارکر قتل کردیا اور فرار ہوگئے۔

ایس ایس پی سینڑل ذیشان صدیقی نے کرائم سین کے دورے کئے اور شواہد حاصل کرلئے۔

رواں سال ڈکیتی مزاحمت واقعات میں تیزی کے باوجود پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کوئی خاص کارکردگی نظر نہیں آرہی، رواں ماہ کے 23 دنوں میں ڈکیتی مزاحمت پر 52 افراد کو قتل کیا جاچکا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں