بھارت کو لفٹ نہ کراؤ۔۔

پاکستان سے متعلق بھارت کی پالیسیاں شاید ہمارے حکمرانوں کو توٹس سے مس نہ کرسکیں، لیکن عوام کو شرمندہ ضرور کررہی ہیں، بھارت ، پاکستان کے بڑھائے گئے دوستی کے ہر قدم کا جواب دھتکار کر دیتا ہے، تازہ خبر یہ ہے کہ ھارت نے کرتارپور راہداری پر 2 اپریل کو طے شدہ میٹنگ اچانک مؤخر کردی ہے۔
ہمارا دفتر خارجہ بھی پاکستان کے سرکاری محکموں کی طرح ہے ، جس کا اپنا کوئی دائرہ کار یا قومی پالیسی سے ہم آہنگ ہونا نظر نہیں آتا، دفتر خارجہ نے اس بار بھی بس روایتی بیان داغ دیا ہے ، بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے میٹنگ مؤخر کی گئی ہے ، جس پر افسوس ہے۔ 14 مارچ کو کرتاپور راہداری کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں دونوں طرف سے آئندہ میٹنگ پر بلانے پر اتفاق ہوا تھا، ان مذاکرات میں تصفیہ طلب مسائل اور ان کے حل پر گفتگو کی گئی تھی۔ پاکستان کا مؤقف جانے بغیر آخری لمحات اور بالخصوص 19 مارچ کو ایک مثبت تکنیکی مذاکرات کے بعد میٹنگ مؤخر کرنا ناقابلِ فہم ہے۔
اس طرح کے روایتی بیانات سے پاکستان کا احتجاج تو کہیں سے بھی واضح نہیں ہوتا ، البتہ عوام میں مایوسی کی لہر ضرور دوڑ جاتی ہے۔ لوگ سوچتے ہیں اس سے بہتر تو افغانستان کی پالیسی ہے جو بات بات پر پاکستان کو ذلیل کرتا رہتا ہے، ابھی حال ہی میں اس نے پاکستان سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔ کم از کم ایسی ہی پالیسی ہم بھی بھارت کے خلاف اپنا لیں.
پاکستان کے عوام بھارت سے بہترروابط چاہتے ہیں، لیکن بھارت کی جانب سے پاکستان کو بار بار رسوا کیا جانا پاکستانی عوام کو ہرگز قبول نہیں ہے ، لیکن حکومت کو شاید اس بات سے کوئی سروکار ہی نظرنہیں آتا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں