چیئرمین تحریک انصاف، سابق وزیراعظم عمران خان کو تاحال اڈیالہ جیل منتقل نہیں کیا جاسکا۔اٹک ڈسٹرکٹ جیل کو اب تک اسلام آباد ہائیکورٹ کا آرڈر موصول نہیں ہوا۔
کل 26 ستمبر کو اٹک جیل میں سائفر کیس کی سماعت بھی ہونی ہے۔اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم دیا اور جیل مینوئل کے مطابق تمام سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا کا اسٹیٹس تبدیل ہو چکا، سزا معطل ہونے کے بعد وہ انڈر ٹرائل قیدی ہیں، جو اڈیالہ جیل رکھے جاتے ہیں۔
پھر چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل کیوں رکھا گیا؟ یوں نہ ہو کہ سابق وزیراعظم کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا کر سہولتوں سے محروم رکھا جائے۔