این اے 89 میانوالی: عمران خان کی اپیل پر فیصلہ محفوظ

این اے 89 میانوالی سے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اپیل پر الیکشن ٹربیونل نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

الیکشن ٹربیونل کے جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے فریقین کے دلائل سن کر فیصلہ محفوظ کیا۔

بیرسٹر علی ظفر، عمیر نیازی، لامیہ نیازی سمیت دیگر وکلاء الیکشن ٹربیونل میں پیش ہوئے ہیں۔

ڈی جی لاء الیکشن کمیشن ارشد ملک ٹیم کے ہمراہ ٹریبونل میں پیش ہوئے۔

بیرسٹر علی ظفر نے بانیٔ پی ٹی آئی کی نااہلی کے خلاف دلائل دیتے ہوئے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں سزا معطل ہوئی ہے اور اپیل زیرِ سماعت ہے۔

ٹربیونل نے وکیل علی ظفر سے سوال کیا کہ آپ اپنے دلائل کب تک مکمل کر لیں گے؟

وکیل علی ظفر نے کہا کہ مجھے 45 منٹ کا وقت درکار ہے، اپنے دلائل مکمل کر لوں گا۔

ٹربیونل نے سوال کیا کہ توشہ خانے میں جو چیزیں لی گئیں کیا ان کی تفصیلات دی گئیں؟ ہم یہاں توشہ خانہ کیس کے میرٹ پر بات نہیں کریں گے، جو پیسہ توشہ خانے کی چیزیں بیچ کر حاصل کیا گیا وہ کیوں ظاہر نہیں کیا گیا؟

وکیل علی ظفر نے کہا کہ توشہ خانے میں ساری چیزیں ڈیکلیئر کی گئی ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل طیب بلال نے دلائل دیے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی ظفر نے کہا کہ ہم نے عدالت کو بتایا کہ جو اعتراضات میں الزام لگایا گیا ہے اس پر نااہلی نہیں بنتی، عدالت کو بتایا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطل ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کو بتایا نااہلی کا فیصلہ آر او نہیں کر سکتا، یہ کوئی عدالت ہی کر سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں