بڑا شہابِ ثاقب زمین اور چاند کے درمیان سے گزر گیا

نیویارک:بڑا شہابِ ثاقب زمین اور چاند کے درمیان سے گزر گیا، رپورٹ کے مطابق ایم کے 2024کا حجم 120سے 260فٹ ہے، ایم کے 2024نامی خلائی چٹان (شہابِ ثاقب) ہماری زمین سے 2لاکھ 95ہزار کلومیٹر کے فاصلے سے گزری ہے۔ یہ زمین اور چاند کے فاصلے کا 77فیصد ہے۔ زمین کے اِتنے نزدیک سے گزرنے والا یہ شہابِ ثاقب حالیہ برسوں میں زمین سے دکھائی دینے والے چند انتہائی چمک دار فلکی اجسام میں سے ہے۔

ایم کے 2024 کے گزرنے سے زمین کے لیے کوئی خطرہ نہیں۔خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا کے ادارے سینٹر فار نیئر ارتھ آبجیکٹس اسٹڈیز سے وابستہ شہاب ہائے ثاقب سے متعلق امور کے ماہر ڈیوڈ فرنشیا کہتے ہیں کہ شہبابِ ثاقب کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے زمین کے نزدیک سے گزرتے رہتے ہیں تاہم اِتنے بڑے شہاب ہائے ثاقب کا زمین کے نزدیک سے ہر پچیس سال بعد گزر ہوتا ہے۔7595 فٹ کا ایک شہابِ ثاقب زمین کے نزدیک سے گزرا تھا تاہم اس کا فاصلہ اس قدر تھا کہ پروفیشنل سطح پر استعمال ہونے والی دور بینوں کے بغیر اسے دیکھا نہیں جاسکتا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں