فکر معاش کیوں؟ (محمد را شد شیخ)

فکر معاش وہ بد بلا ہے جس نے دنیا کے تقریبا ہر انسان کو قابو کیا ہوا ہے ۔صبح کا سورج طلوع ہوتے ہی ،یا یوں کہیں کہ رات سونے سے قبل اگلے دن آمدنی کے حصول کے طریقے ،منصوبے اور کمائی کی فکر سر پر سوار کر کے انسان فکرمندی کی نیند سو جاتا ہے اور صبح اٹھتے ہی فکر معاش میں مبتلاء ہوجا تا ہے ۔یہ طرز زندگی شاید ہر اس انسان کی ہے جس کے پاس آمدنی کےمحدود ذرائع ہوں۔ممکنہ طو ر پر یہی وجہ ہے کہ مفلسی میں پنپتے معاشرے کا کوئی ، فرد اپنی آمدنی پر نا خوش نظر آ تا ہے ،کوئی شخص حکومتی پالیسی کو ہدف تنقید بناتا نظرآ تا ہے ،کوئی شخص قوت خرید متاثر ہو نے پر اپی برہمی اور دوسرے کی بے بسی کا رونا روتا نظر آہے ،گویا کہ ہر ایک شخص مختلف رائے کا اظہار کر کے صرف ایک ہی بات کےلئے فکر مند نظر آ تا ہے اور وہ ہے ” فکر معاش” ۔

مذکورہ باتیں اپنی اپنی نوعیت میں خا ص مقام رکھتی ہیں یا یوں کہہ لیجئے کہ تما م لو گ اپنے آ سان روزگار کے حصول کے لئے فکر مند ہیں کہ کس طرح اس نفسا نفسی اور بے کسی کے دور میں معاشی طور پر مستحکم ہوسکتے ہیں۔یہاں میں اس بات کی طرف ضرور توجہ دلانا چاہوں گا کہ میں کوئی ما ہر معا شیات ،معیشت دان یا کا روباری شخص نہیں ہوں بلکہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے وا لا انسان اور صحافت کے پیشے سے وابستہ ہوں جس نے اپنے قرب و جوار میں رہنے وا لے لوگوں کے حا لا ت زندگی اور ان کے طرز زندگی سے بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی ہے ۔اپنے ان ہی مشاہدات اور تجربے کی روشنی میں فکر معا ش میں مبتلاء لو گوں کی خدمت میں عرض ہے کہ فکر معاش میں مبتلاء ہر انسان سب سے پہلے اپنی طرز زندگی کا محاسبہ کرنے کی کوشش کرے کہ آ یا ایسی کونسی وجوہات یا محرکات ہیں جن کی بناء پر انسان خود تنگدستی ،مفلسی اور بے بر کتی کی زندگی گزارنے پ مجبور ہے کیونکہ اللہ رب العالمین کی تمام مخلوق میں ایک انسان ہی ایسی مخلوق ہے جواپنا پیٹ بھرنے اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے زندگی بھر کمانے کی مگن میں لگی رہتی ہے اور یہی مخلوق بھوک کے عالم میں مرتی ہے اور خو دکشی تک کی نو بت آ جا تی ہے جبکہ دیگر مخلوق کو یہ فکر لاحق نہیں ہے با وجود اس کے وہ مخلوق کبھی بھو کی نہیں مرتی ہے ۔

اس تناظر میں اگر دیکھا جائے توآ ج کا انسان شاید اللہ رب العالمین پر توکل کر نے میں تنگی سے کام لے رہا ہے ۔آج کا انسان اللہ رب العالمین کے احکام پر عملدر آمدمیںتنگی کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔آ ج کا انسان اللہ پاک اور اس کے پیا رے محبوب ﷺ کی بتائے ہوئے راستے سے بھٹک گیا ہے جس کی وجہ سے بے بر کتی، تنگدستی ، مفلسی ،مقروضی ،نفسا نفسی ، دھوکہ دہی ، شر پسندی ،جرائم کی شرح میں اضافہ اور نہ جانے کو نسی آفت و مصیبت کا شکار ہو گیا ہے ۔اگر کوئی شخص یہاں صرف حکومت اور انتظامیہ کو مو رود الزام ٹہراتا ہے یا ان کی ناقص حکمت عملی کا شکوہ کرتا ہے تو بے شک کرے لیکن یہ بات ضرور یاد کھے کہ تمام غلطیو ں اور پریشانیوں کا سبب صرف حکومت وقت نہیں ہو تی بلکہ انسان کی انفرادی حیثیت بھی معا شرے پرمنفی یا مثبت اثرات مرتب کرتی ہے ۔

اپنی گفتگو کو سیمٹتے ہوئے اس بات پر اکتفا کرتا ہوں کہ اس خو د غرضی کے دو ر میں اگر انسان کو فکر معا ش سے چھٹکارا پانا ہے تو اللہ رب العالمین اور اس کے پیا رے محبوب ﷺ کے احکام کے مطابق اپنی زندگی کو عمل کے اس سانچے میں ڈھالنا ہوگا جس میں شکوہ کر نے کے بجائے شکر کی روایت برقرار ہو۔یقین جانئے زیادہ کچھ نہیں اگر ہم انفرادی طو ر پر اپنا طرز زندگی اسلامی اصو لوں کے مطابق اپنانے میں کامیاب ہو جا ئیں تو خو شحالی ہما رے معا شرے کے ہر فرد کا مقدر ہو گی اور فکر معاش کی جگہ ہر شخص کی معاشی حالت مستحکم ہو گی ۔ان شاء اللہ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں