تنخواہ دار طبقے پر بوجھ بڑھا دیا،کوئی حکومت پراپرٹی ٹیکس لینے کیلئے تیارنہیں ،شبرزیدی،مفتاح اسماعیل

کراچی:سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل اور سابق چیئرمین ایف بی آرشبرزیدی نے بجٹ پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ شبرزیدی نے نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ معلوم نہیں 40 سال سے ایکسپورٹس پرایک فیصد ٹیکس یک جنبش قلم سے بڑھا کر 40 فیصد کرنے کا نسخہ کس حکیم نے دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ لگتا ہے حکومت کے ساتھ دھوکا ہورہا ہے، بیوروکریسی چاہتی ہے کہ حکومت کوعوام کے سامنے شرمندگی کا سامنا ہو۔

ان کا مزید کہنا تھاکہ پاکستان میںکوئی حکومت پراپرٹی ٹیکس لینے کیلیے تیار نہیں، 1970 کے بعد سے پاکستان کے کسی شہر میں پراپرٹی سروے نہیں ہوا، ن لیگ بتائے لاہور میں پراپرٹی سروے کب کیا تھا؟ یہ بجٹ وہ بجٹ نہیں جو 30 جون کو منظور ہوگا۔سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھاکہ بڑے ایکسپورٹرز سے ٹیکس لینے میں اتنا مسئلہ نہیں لیکن بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ بڑھا دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ توقع تھی ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا، حکومت نے ریٹیلرز کے انکم ٹیکس کی مد میں مینوفیکچررز سے سوا دو فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس لینے کا کہا ہے لیکن کیونکہ 95 فیصد ریٹیلرز اور ڈسٹری بیوٹرزنان فائلرزہیں اس لیے یہ بوجھ مینوفیکچررپرپڑے گا اور وہ یہ رقم کبھی اپنی جیب سے نہیں دے گا۔

ان کا کہنا تھاکہ ایک طرف حکومت نے دواو¿ں اور خشک دودھ پر ایک فیصد ٹیکس بڑھا کر 17 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے لیکن دوسری جانب لوہا اور اسکریپ کی سیلز پرچھوٹ کا اعلان کیا ہے، لگتا ہے اس شعبے میں کسی کی بڑی پرچی چلی ہے۔مفتاح اسماعیل کا کہنا تھاکہ بجٹ میں اصلاحات سے متعلق حکومت کاکوئی اقدام نظر نہیں آیا، اس سال وفاق کی پنشن ایک ہزارارب روپے سے زائد ہے، وفاقی حکومت کے اخراجات سے پنشن اب 25 فیصد زائدہوگئی ہے، حکومت نے پینشن سے متعلق اصلاحات پرکام نہیں کیا، وزیرخزانہ نے پینشن اصلاحات سے متعلق کوئی بات نہیں کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں