مجبور نہ کیا جائے ورنہ عوام کوسب بتادوں گا،فیصل واڈاکاگاڑیوں پرٹیکس لگانے پرردعمل

اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میںسینیٹرفیصل واڈا نے گاڑیوں پرٹیکس لگانے کے خلاف شدیدردعمل کااظہارکیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔اجلاس میں کمیٹی نے نئے بجٹ میں ہائی برڈ اور الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس لگانے کی مخالفت کردی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈیڑھ کروڑ سے مہنگی گاڑیوں کو حاصل 25 فیصد ٹیکس چھوٹ ختم کی گئی ہے۔جس پر چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ یہ ایف بی آر کا فیصلہ نہیں بلکہ وزارت صنعت و پیداوار کی تجویز ہے تو سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ گاڑیوں پر ٹیکس قابل قبول نہیں، اس حوالے سے متعلقہ وزیر کو طلب کرکے وضاحت طلب کی جائے۔

کمیٹی نے رانا تنویر حسین کو بلانے کا فیصلہ کر لیا، فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اس ٹیکس کو ختم کرنا پڑے گا ورنہ میں اوپن بات کروں گا، پوری دنیا میں الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے لیکن ٹیکس اور پالیسیوں میں تبدیلی کی وجہ سے کوئی اس ملک میں انڈسٹری نہیں لگاتا۔ایف بی آر حکام نے بتایا کہ درآمدی گاڑیوں پر ٹیکس لگا ہے مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں پر ٹیکس نہیں لگا۔

فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ یہ میرا کاروبار ہے مجھے پتہ ہے کہ کون گاڑیوں پر ٹیکس لگوا رہا ہے، مجھے مجبور نہ کیا جائے ورنہ میں پبلک میں بتادوں گا۔انھوں نے مزید کہا کہ نئے بجٹ میں ٹیکس لگانے سے پورے پاکستان میں پراپرٹی مارکیٹ بیٹھ گئی ہے، اب عام آدمی گھر نہیں خرید سکے گا، آئی ایم یف کے کہنے پر ہر چیز کا بھٹا بٹھا دیں گے۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر 35 فیصد تک اور غیر تنخواہ دار طبقے پر 45 فیصد تک ٹیکس عائد ہے، پراپرٹی سیکٹر میں فائلر کیلئے ٹیکس کی شرح 15 فیصد اور نان فائلر کیلئے 45 فیصد ہے جبکہ پراپرٹی سیکٹر میں ٹیکسوں کی شرح بہت فیئر ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے ارکان نے الیکٹرک اور ہائی برڈگاڑیوں پرٹیکس لگانے کی مخالفت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں