کراچی: یومیہ 50 لاکھ کی منشیات فروخت کرنے کا انشکاف

کراچی میں گرفتار منشیات کے سب سے بڑے ڈیلر نے روزانہ 50 سے 60لاکھ روپے کی منشیات فروخت کرنے کا انکشاف کیا ہے۔

بغدادی پولیس کے ہاتھوں گرفتار منشیات کے سب سے بڑے ڈیلر ریاست علی عرف جدگال کی انٹیروگیشن رپورٹ جاری کردی گئی۔

گرفتار منشیات فروش نے دوران انٹروگیشن انکشاف کیا کہ ہمارے اڈے پر روزانہ کی بنیاد پر 50سے 60لاکھ روپے کی منشیات فروخت ہوتی ہے جس میں چرس، آئس، کرسٹل و دیگر نشے شامل ہیں اور یہ تمام منشیات میرا بھائی عابد ایران اور دیگر ممالک سے اسمگلنگ کرکے لاتا ہے جبکہ میری ذمہ داری اڈے پر مال فروخت کروانے کی ہے۔

گرفتار ملزم نے بتایا کہ پاک کالونی اڈے کے علاوہ گولیمار میں بھی منشیات فروش ڈیلروں کو ہم منشیات فروخت اور سپلائی کرتے ہیں۔ پرانا گولیمار میں اپنے منشیات کے اڈے کو بڑھانے، تحفظ کے لیے اور علاقے میں موجود دیگر منشیات فروشوں کو ختم کرنے کے لیے اسلحے کی ضرورت پیش آنے لگی تو میں نے اسلحے کی خریداری کی ذمہ داری اپنے کارندے رضا کو سونپی جو کہ اسلحہ کی ڈیلنگ خیر پختونخوا میں موجود وہاب پٹھان نامی شخص سے کر رہا تھا جبکہ میرے اڈے سے منشیات فروشی اور منشیات کی سپلائی کے تمام تر کام لیاقت انجام دے رہا ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزم اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ گرفتار ہو چکا ہے، گرفتار ملزم لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کا قریبی ساتھی ہے اور لیاری گینگ وار کے کارندوں کو پناہ فراہم کرنے سمیت سنگین جرائم میں ملوث بھی ہے۔ گرفتار منشیات فروش کے ساتھیوں میں سردار ماجد، عابد عرف خالد، ساجد، رضا، لیاقت اور وہاب پٹھان شامل ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزم منشیات فروشی سے حاصل ہونے والی رقم سے اسلحہ کی خریداری سمیت لیاری گینگ وار کے جمیل چھانگا، بلال پپو، سلیم چاکلیٹی اور ساجد نامی ڈکیت نامی گروپوں کی مالی معاونت بھی کرتا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں