پروفیسر مسعود حمید ، پاکستان کے شعبہ طب کی تاریخ کا عظیم سرمایہ

پروفیسر مسعود حمید خان پاکستان میں میڈیکل فیلڈ میں ایک ایسا نام جو صدیوں تک جانا جائیگا ۔
1978 میں ڈاؤ میڈیکل کالج سے MBBS پاس کرنے کے بعد بطور ڈاکٹر اپنی خدمات انجام دیتے رہے اور ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا ۔ 1992 سے 1996 تک کراچی کے جناح ہسپتال میں بطور اسوسی ایٹ پروفیسر آف میڈیسن خدمات انجام دینے کے بعد ستمبر سن 1997 میں ڈاؤ میڈیکل کالج میں پروفیسر آف میڈیسن تعینات ہوگئے اور ڈاؤ میڈیکل کالج سے منسلک سول ہسپتال کے میڈیکل وارڈ میں مریضوں کے لئے خدمات انجام دیں اور پھر سن 2004 میں ڈاؤ میڈیکل کالج جب خودمختار یونیورسٹی میں تبدیل ہوا تو اللّه نے پروفیسر مسعود حمید خان کو وائس چانسلر کے عہدہ سے نوازا ۔

یہ بات تقریباً سب ہی جانتے ہیں کہ ڈاؤ میڈیکل کالج حیدرآباد میں 1945 میں قائم کیا گیا تھا۔ اسے سندھ کے گورنر سر ہیو ڈاؤ
( Sir Hugh Dow )
نے کراچی منتقل کیا تھا۔ 1947 تک یہ بمبئی یونیورسٹی کا الحاق تھا۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد یہ سندھ یونیورسٹی کے ماتحت تھا ۔ جامعہ کراچی کے قیام کے بعد اس کا الحاق ہو گیا۔

یہ 2004 کی بات ہے جب ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کو ایک خود مختار ادارے کے طور پر قائم کیا گیا ۔مگر اس کالم کا مقصد ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی سے جڑا ایک ایسا نام جو نہ صرف مریضوں کے لئے آسان اور سستا علاج بلکہ طلبا و طالبات کے لئے روشن مستقبل اور عوام الناس کے لئے ملازمت کے دروازے کھول گیا اور اس نام کو
“پروفیسر مسعود حمید خان”
کے نام سے جانا جاتا ہے ۔
پروفیسر مسعود حمید خان
تمغہ امتیاز ، پی ایچ ڈی , ایف سی پی ایس ، ایف آر سی پی (Edin) , ایف آر سی پی (London). اور
ایک ماہر میڈیسن فزیشن ۔

2004 میں ڈاؤ میڈیکل کالج جب ایک خود مختار یونیورسٹی میں تبدیل ہوئی جسکی بنیاد گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی سربراہی میں وجود میں آئی جو کہ ڈاؤ یونیورسٹی کے چانسلر کے طورپر جب کہ پروفیسر مسعود حمید خان وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی کے طور پر سامنے آئے ۔
1945 سے لیکر 2003 تک جب تک ڈاؤ میڈیکل کالج تھا اس وقت تک یہاں ایم بی بی ایس اور کیونکہ سول ہسپتال اس سے منسلک تھا تو طلبہ وطالبات کے لئے ایف سی پی ایس کی سہولیات تھیں ۔
پروفیسر مسعود حمید خان نے اس ادارے کو یونیورسٹی کا درجہ ملتے ہی اپنی محنت اور لگن سے اس یونیورسٹی کو کامیابی کی بلندی کی طرف گامزن کیا ۔ وقت گزرتا گیا اور پروفیسر مسعود حمید خان نے کراچی کے علاقے جوہر موسمیات چورنگی پر موجود اوجھا چیسٹ ڈیزیس جس کی ایک وسیع زمین بے یارومددگار پڑی تھی اس میں نہ صرف ڈاؤ انٹرنیشنل میڈیکل کالج کے نام سے بنیاد رکھی بلکہ ایک ہسپتال بھی قائم کیا جسکو ڈاؤ یونیورسٹی ہسپتال کا نام دیا گیا ۔ اس اقدام سے نہ صرف طلبہ وطالبات کو ایڈمیشن لینے کے زیادہ مواقع ملے بلکہ بیروزگار لوگوں کے لئے نوکریوں کے لئے بھی ایک ادارہ وجود میں نظر آیا ۔ یہ سلسلہ صرف یہیں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس وقت کے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کو اعتماد میں لیکر پروفیسر مسعود حمید خان نے ڈاؤ یونیورسٹی کے نام سے مختلف ڈیپارٹمنٹس کی بنیاد رکھی ۔ جن میں ریڈیولوجی ڈیپارٹمنٹ ، آنکھوں کی بیماری کا ایک علیحدہ ڈیپارٹ ، ڈاؤ ہسپتال میں ایک بہت بڑے جدید آپریشن تھیٹر کی بنیاد رکھی اسکے علاوہ ایک او پی ڈی بلڈنگ کی بنیاد جس میں ہر مرض کی بیماری کی تشخیص کے حوالے سے تجربہ کار ڈاکٹرز کو ان مریضوں کی خدمات کے طور پر نوکریاں دی گئیں ، ڈاؤ بلڈ بنک کی بنیاد کے ساتھ ساتھ بےشمار لیب بنائی جو نہ صرف پورے کراچی میں بلکہ سندھ کے مختلف شہروں میں قائم کی گئیں اور سب سے اچھی بات اس ادارے کی یہ تھی کہ یہاں مریضوں کے علاج پر ہونے والے اخراجات دوسرے پرائیویٹ اداروں کے مقابلے میں 60 سے 70 فیصد کم تھے ، مثال کے طورپر ایم آر آئی , ایکسرے ، الٹراساؤنڈ ، بلڈ ٹیسٹ، لیب ٹیسٹ وغیرہ یہ سب ٹیسٹ ایک پرائیویٹ ادارے کے مقابلے میں نہایت کم قیمت یعنی 60 سے 70 فیصد کم ریٹ پر تھے جو کہ عوام کے لئے ایک بہترین سہولت تھی۔ گذرتے دنوں کے ساتھ ادارے کا نام مریضوں کی سہولیات کے حوالے سے پورے ملک میں جانا جانے لگا ۔ یہ سب نہ صرف سندھ اور کراچی کی عوام کے لئے ایک سہولتی ادارہ تھا بلکہ ملک کے مختلف شہروں سے لوگ اپنے پیاروں کو علاج کی غرض سے ڈاؤ یونیورسٹی ہسپتال کا رخ کرنے لگے ۔
ترقی کے یہ سلسلہ یہیں تک محدود نہیں رہا پروفیسر مسعود حمید خان نے اندرون سندھ اور کراچی کے طلبہ وطالبات کے لئے پڑھائی کے مواقع اجاگر کرنے کے لئے ڈاؤ یونیورسٹی کے اندر مختلف ڈیپارٹمنٹ اور انسٹیٹیوٹ کا قیام عمل میں لائے جیسا کہ نرسنگ انسٹیٹیوٹ ، انسٹیٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ رہیبلائٹیشن، انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ منجمنٹ ، ریسرچ ڈیپارٹمنٹ، پروفیشنل ڈویلپمنٹ سینٹراور سب سے بڑھکر 3 ڈینٹل انسٹیٹیوٹ کی بنیاد رکھی جن میں سے سب سے پہلی ڈینٹل کالج کی بنیاد 2007 میں اس وقت کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد خان انسٹیٹیوٹ آف اورل ہیلتھ سائنسز کے نام سے منسوخ کیا اور یکے بعد دیگر مزید 2 ڈینٹل کالج کا قیام عمل میں لائے، جس میں نہ صرف طلبہ وطالبات کو BDS ڈگری اور MDS ڈگری کے مواقع فراہم کیے بلکہ عوام کے لئے انتہائی کم اخراجات میں دانتوں سے منسلک بیماریوں کے علاج کا مرکز بنایا جہاں عوام کا علاج ایک پرائیویٹ کلینک کے مقابلے میں 80 فیصد کم قیمت میں کیا جانے لگا کیونکہ پوری دنیا میں دانتوں کا علاج انتہائی مہنگا مانا جاتا ہے تو اس حساب سے یہ اندرون سندھ اور کراچی کے لوگوں کے لئے بہت بڑی سہولت کا مرکز تھا ۔
طلبہ و طالبات کی تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ انکی ذہنی اور جسمانی ورزش کے لئے ایک انٹرنیشنل طرز کا اسپورٹس کمپلیکس بھی قائم کیا ، جس میں باسکٹ بال ، تھروو بال ، بیڈمنٹن ، ٹیبل ٹینس اور جدید ایکسرسائز مشینوں کا جم اور فٹبال اور کرکٹ جیسے گیم کھیلنے کے لئے ایک بہت بڑا گراؤنڈ بھی مہیہ کیا ۔
اندروں سندھ اور دوسرے ملکوں یا شہروں سے تعلیم کی غرض سے آنے والے طلبہ و طالبات کے رہنے کے لئے منفرد طرز کے گرلز اور بوائز ہاسٹل بھی بنائے۔

یہ سب وہ کام ہیں جو کہنے بولنے میں آسان ہیں مگر پروفیسر مسعود حمید خان نے ان کاموں کو کر گزارا ۔

پروفیسر مسعود حمید خان جب تک اپنے عہدہ پر رہے عوام الناس کے لئے ڈاؤ یونیورسٹی میں مستقبل کے پلان نہ صرف تشکیل دیتے رہے بلکہ انھے تکمیل تک بھی پہنچایا ۔
اس بات سے کوئی انکاری نہیں کہ پروفیسر مسعود حمید خان نے نہ صرف تعلیمی اداروں کی بنیاد رکھی بلکہ ہنر مند اور پڑھے لکھے نوجوانوں کے لئے نوکریوں کے دروازے بھی کھولے اور مریضوں کے لئے ڈاؤ یونیورسٹی ہسپتال کو ایک سستا اور معیاری علاج کا مرکز بنایا ۔

پروفیسر مسعود حمید خان کو ان ساری خدمات پر تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا ۔

ستمبر 2015 میں وائس چانسلر کے عہدہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد اب پروفیسر صاحب کراچی کے ایک پوش علاقے میں ایمریٹس پروفیسر کے طور پر اپنے ذاتی پرائیویٹ کلینک پر اپنے ڈاکٹر ہونے کے تجربے کی بنیاد پر مریضوں کے لئے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔

ایمریٹس پروفیسر مسعود حمید خان ایک اچھے ڈاکٹر ہی نہیں ایک بہترین ٹیچر آعلیٰ درجے کے پروجیکٹ پلانر کے ساتھ ساتھ انکے اندر لیڈرشپ پاور بھی تھی جسکی وجہ سے ڈاؤ یونیورسٹی نے بہت کم وقت میں پبلک سیکٹر اداروں میں اپنا لوہا منوالیا تھا ۔

ابھی بھی ڈاؤ یونیورسٹی اپنی جگہہ قائم و دائم ہے اور عوام کے لئے خدمات انجام دے رہی ہے ۔
مستقبل میں جب بھی ڈاؤ یونیورسٹی کے حوالے سے کہیں بھی بات کی جائیگی تو 1945 کے گورنر سندھ سر ہیو ڈاؤ
( Sir Hugh Dow )
کی طرح مسعود حمید خان کا نام بھی سنہرے حرفوں سے لکھا جائیگا ۔

اس کالم کے آخر میں پروفیسر صاحب کے نام چند الفاظ گوش گزار کرنا چاہونگا ۔

” میں قصّہ مختصر نہ تھا
ورق کو جلدی پلٹ گئے تم “

. . . . . ختم شد . . . . .

تحریر ۔۔ کاشف خان ، کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں