دو ٹکے کا صحافی (کامران بونیری)

بیمار اور بے ضمیر معاشروں میں اہل علم کی حیثیت دو ٹکے کی ہی ہوتی ہے، آپ نے اکثر یہ لفظ سنا ہوگا دو ٹکے کا صحافی “دو ٹکے کا وکیل” “دو ٹکے کا اینکر” اور “دو ٹکے کا ٹیچر”، یہ چبھتا جملہ 15 ہزار کمانے والے مزدور سے ہزاروں کی رشوت کھانے والے کرپٹ افسر سے آپ نے بھی سنا ہوگا۔ میں تو اکثر سنتا ہوں کہ بڑا آیا صحافی، اس کی حیثیت ہی کیا ہے، “دو ٹکے کا صحافی”، اس پولیس والے کرپٹ افسر سے بھی یہ لفظ سنا ہوگا جو ناکے پر غریبوں کی جیب کاٹتا ہے، اس ذخیرہ اندوز اور وزن کم تولنے والے تاجر سے بھی سنا ہوگا جو غریبوں کا حق مار کر اپنی تجوریاں بھرتا ہے، اس منشیات فروش سے بھی سنا ہوگا جو لوگوں میں موت کا سامان فروخت کرتا ہے، اس جعلی دوائیاں فروخت کرنے والے سے بھی سنا ہوگا جو چند ٹکوں کے لئے لوگوں سے زندگی چھین لیتا ہے، اس قصاب نما ڈاکٹر سے بھی سنا ہوگا جو چند ٹکوں کے لئے لوگوں کے گردے نکال کر فروخت کرتا ہے۔ الغرض معاشرے کے تمام کرپٹ کرداروں کی نظر میں ہر وہ “صحافی دو ٹکے کا ہے” جو ان کی کرپشن، چور بازاری اور ملک کے وسائل کو اپنا حق سمجھ کر دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار کرنے والوں کی بدعنوانیوں کو منظرعام پہ لائے-سچ کہوں تو ہمارے ملک کا “صحافی دو ٹکے” کا ہی ہے کیونکہ یہ “دو ٹکے کا صحافی” سچ لکھنے کے جرم میں قتل ہوتا ہے، پھر بھی دیگر سچ لکھنے والے صحافی سبق نہیں لیتے اور سچ لکھنے سے باز نہیں آتے، یہی “دو ٹکے کا صحافی” غریب اور مظلوم کو انصاف دلوانے کے لیے جان جوکھوں میں ڈال کر ان کی آواز بنتا ہے اور خبریں شائع کرتا ہے لیکن اس کے اپنے دکھوں کا مدوا کرنے والا کوئی نہیں، یہی “دو ٹکے کا صحافی” میڈیا مالکان کی تجوریوں کو بھر دیتا ہے لیکن اس کے اپنے گھر میں اشیا خوردونوش کی قلت ہی رہتی ہے، اس کے بچے چھوٹی چھوٹی حسرتوں کے لئے ترس رہے ہوتے ہیں اور یہ “دو ٹکے کا صحافی” اپنے بچوں کی ضرورتوں اور حسرتوں کو پورا نہ کرنے پہ اندر ہی اندر روز جیتا اور روز مرتا ہے- یہی “دو ٹکے کا صحافی” خبر، کالم اور تجزیہ شائع کرتا ہے جو کسی کے حق میں جائے تو وہ اس کے بہت بڑے صحافی ہونے کا گن گاتا ہے جس کے خلاف جائے تو وہ اسے “لفافہ صحافی کا لقب” عطا کر کے رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے، یہی “دو ٹکے کا صحافی ہے” جو میڈیا مالکان کی طرف سے چھہ چھہ ماہ تنخوا نہ ملنے پر خودکشی تو کرتا ہے لیکن کسی حرام خوری کے راستے پر چل کر اپنی تجوریاں نہیں بھرتا۔ یہی”دو ٹکے کا صحافی” جو سیاستدانوں کے لئے سرخیاں چھاپتا ہے لیکن وہ اپنی خبر شائع نہیں کر سکتا، یہی “دو ٹکے کا صحافی” جو راتوں کو اپنا خون جلا کر سچ لکھتا اور ادب تخلیق کرتا ہے لیکن اس بیمار اور بے ضمیر معاشرے میں اس کی اپنی حیثیت “دو ٹکے کی بھی نہیں، یہی “دو ٹکے کا صحافی ہے” جو علم کی روشنیاں پھیلاتا ہے لیکن اس کے اپنے ارد گرد غربت و افلاس کے اندھیرے چھائے رہتے ہیں۔
ہم ایک ایسے بیمار اور بے ضمیر معاشرے میں رہتے ہیں جہاں رشوت خور، حرام خور، چور ڈاکو لٹیرے، جھوٹے فریبی، ظالم جابر اور قومی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے والوں کی قدر تو لاکھوں کروڑں کی ہے لیکن اس معاشرے کو علم آگاہی اور شعور فراہم کرنے والے “صحافی” کی قیمت “دو ٹکے کی بھی نہیں، اس معاشرے کی عجیب سوچ ہے، “صحافی” اپنے بچوں کی بھوک مٹانے کے لئے اگر کوئی کاروبار کرے، مزدوری کرے تو کہا جاتا ہے کہ یہ کیسا “صحافی” ہے جو کاروبار کر رہا ہے، “صحافی” اپنی سفید پوشی قائم رکھنے کے لئے کسی کا ترجمان بنے تو کہا جاتا ہے کہ “لفافہ صحافی” ہے، گویا “صحافی کے بارے میں تصور قائم کرلیا گیا ہے کہ نہ اس کا خاندان ہوتا ہے, نہ جذبات اور نہ غم روزگار، بس یہ خدائی خدمتگار طبقہ ہے، باقی طبقات سے کوئی نہیں پوچھتا کہ کون کیا کر رہا ہے بس یہ “دو ٹکے کا صحافی” ہے جس پر پورا معاشرہ انگلیاں اٹھاتا ہے، طعنے دیتا ہے، دھمکیاں دیتا ہے، جان لیتا ہے، معاشی طور پر مار دیتا ہے۔”صحافی سچی بات لکھے، کہے اور اس کی تشہیر کرے تو جن کے حق میں جائے وہ اس کے گن گانے لگتے ہیں اور جن کے خلاف جائے تو ان کے نزدیک “صحافی کی صحافت” لمحوں میں ختم کردی جاتی ہے “لفافہ صحافی” اور “دو ٹکے کا صحافی” بنا دیا جاتا ہے، یہ ہمارے اس بیمار اور بے ضمیر معاشرے کا المیہ ہے کہ اس معاشرے میں ہر کرپٹ کردار کو عزت دی جاتی ہے لیکن، شاعر، ادیب، اہل علم اور صحافی گھٹ گھٹ کر زیست کا سفر تمام کرتے ہیں۔صحافت وہ بدقسمت شعبہ ہے جس کے کارکن کی نہ کوئی پنشن ہے، نہ مناسب اجرت اور نہ بعد ازمرگ گھر والوں کے لئے کوئی ریلیف، بیچارے “صحافی کی زندگی میں بھی اس کے بچے اور اہل و عیال تنگدستی سے دوچار ہوتے ہیں اور آنکھ بند ہونے کہ بعد تو خاندان کی زندگی میں معاشی پریشانیوں کا ایک نا ختم ہونے والا سفر شروع ہو جاتا ہے اگر کوئی خوش قسمت صحافی ہو تو ایک آدھ اخبار میں یا اسی کے اخبار میں سنگل کالم خبر شائع کردی جاتی ہے، چند دن بعد ایک آدھ تعزیتی ریفرنس ہوتا ہے جس صحافی کی زندگی میں اس معاشرے نے اس پر جینے کے تمام دروازے بند کر رکھے ہوں اسی معاشرے کے چند بڑے لوگ مرحوم صحافی کے لئے کچھ اچھے کلمات کہہ جاتے ہیں وہ بھی صرف اس لئے کہ خبر میں ان کی تصویر اور نام شامل ہوجائے بس پھر کہانی ختم، بس اتنی سی کہانی ہے اس “دو ٹکے کے صحافی” کی۔ معاشرے کے سدھار کے لئے جہاں بھر کی صعوبتیں برداشت اور جان تک گنوانے کے بعد بھی صحافی کو عزت نہیں ملتی اور وہ “دو ٹکے کا بھی نہیں تو مجھے کہنے دیجئے کہ “صحافی” کے لئے یہ الفاظ استعمال کرنے والے کرپٹ کرداروں کی اپنی اوقات ایک ٹکے کی بھی نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں