سائفر کیس: ملزمان میں چالان کی نقول تقسیم نہیں کی جاسکیں

چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت سائفر کیس کی سماعت کے دوران ملزمان میں چالان کی نقول تقسیم نہیں کی جاسکیں۔

کیس کی سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی جس کے بعد آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین اڈیالہ جیل سے روانہ ہوگئے۔

بیرسٹر سلمان صفدر، سردار لطیف کھوسہ، راجہ یاسر، نعیم حیدر پنجوتھہ، بیرسٹر عمیر خان نیازی، چوہدری خالد یوسف، نیاز اللہ خان نیازی، رائے محمد علی، لال عمر بودھلا، جواد اصغر، علی اعجاز بٹر کو اڈیالہ جیل میں داخلے کی اجازت دی گئی تھی۔

شاہ محمود قریشی کے وکلاء بیرسٹر تیمور ملک، علی بخاری، بیٹا زین قریشی اور بیٹی مہر بانو بھی اڈیالہ جیل پہنچی تھیں۔

اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت کے لیے وزارتِ قانون نے این او سی جاری کیا تھا جبکہ ایف آئی اے سائفر کیس کا چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت میں جمع کرا چکی ہے۔

سماعت کے لیے اڈیالہ جیل کے باہر پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔واضح رہے کہ سائفر کیس کی اس سے قبل 3 سماعتیں اٹک جیل میں ہو چکی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں