لٹن کبوتر،شہرِلاوارث اورفیس بکی مجاہد (شعیب واجد)

انگلینڈ میں جاری ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں شاہینوں نے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا ، قوم اسے کبھی فراموش نہیں کرپائے گی۔پرندہ شاہین بھی اس کارکردگی پر حیران اور پریشان ہے اور سوچ رہا ہے کہ اپنا نام بدل کر لٹن کبوتر رکھ لے۔تاہم ابھی تک نادرا کو اس کی جانب سے تبدیلیِ نام کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوسکی ہے۔نام کی تبدیلی کیلئے اخبار میں اشتہار بھی دینا پڑتا ہے۔سوچیں کہ اگر شاہین کی جانب سے تبدیلیِ نام کا اشتہار اخبار میں شائع کرایا گیا تو وہ شاید اس قسم کا ہوگا۔ ’’میں پرندہ شاہین ولد بڑا شاہین رہائش، پہاڑوں کی چٹانوں پر، اپنا نام بدل کر لٹن کبوتر رکھ رہا ہوں ، آئندہ مجھے اور میرے ابّے کو اسی نام سے پکارا جائے ، معترضین پرندے سات روز کے اندر اپنے اعتراض سے متعلقہ دفتر کو مطلع کریں ، سات روز بعد کوئی اعتراض قابل قبول نہیں ہوگا اور نیا نام لٹن کبوتراختیار کرلیا جائے گا، المشتہر پرندہ شاہین۔
خیر سے ورلڈ کپ میں اتوار کو شاہینوں کا جوڑ جنوبی افریقہ سے پڑ رہا ہے، تیاریاں زورو شور سے جاری ہیں، کپتان سرفراز جیت کیلئے پرعزم ہیں، کوچ مکی آرتھر بھی چاروں میچز جیتنے کیلئے ٹیم کوالٹی میٹم دے چکے ہیں، لیکن اس الٹی میٹم کا انجام کیا ہوگا، یہ کسی کو نہیں پتا، خود مکی آرتھر کا کیا ہوگا یہ بھی نہیں پتا، کپتان سرفراز اپنے کھلاڑیوں کو زور لگانے کی تلقین کس کھاتے میں کررہے ہیں یہ بھی نہیں پتا، ہاں یہ ضرور پتا ہے کہ ٹیم کا اب سیمی فائنل کھیلنے کا امکان معجزے کے برابر ہوگا، یعنی جلد ہی وطن واپسی متوقع ہے، لیکن شاہین گھر اور گلی محلے میں فوری واپس آئیں گے یا نہیں اس بارے میں بھی ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
شاہینوں کی یہ خاص بات ہے کہ ہر بار قوم کو حیران کردیتے ہیں، شاہینوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سیاستدان بھی عوام کو حیران کردینے کے ماہر ہیں، بلکہ ماہر نہ ہی کہا جائے تو بہترہوگا ، مبادا کہیں ماہر نام کے لوگ برا نا مان جائیں اور اپنا نام تبدیل کرنے کی درخواست نہ دے ڈالیں۔ پیپلز پارٹی سندھ کے رہنما مرتضی وہاب نے بھی عوام کو حیران کرتے ہوئے بیان دیا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے کراچی میں ایک بس تک نہیں چلائی۔ظاہر ہے ان کا یہ بیان دینا بنتا بھی ہے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ پی پی کی حکومت نے اپنے دس سالہ دور میں کراچی میں کتنی بسیں چلائی ہیں؟ بسیں چلانا تو دور کی بات ، کراچی میں جو بسیں چلتی تھیں وہ بھی آدھی سے کم رہ گئی ہیں، ان کی جگہ چنگچی چھکڑوں اور رکشوں نے لے لی ہے۔ پچھلے دس سال میں کراچی میں ٹرانسپورٹ کا شعبہ تباہ ہوکر ختم ہوچکا ہے۔
سندھ حکومت گزشتہ دس سالوں سے عوام کو حیران کرتی چلی آرہی ہے۔کے ایم سی کے اختیارات سلب کرکے اسے محض کونسلروں کے اوطاق میں تبدیل کیا جاچکا ہے۔اہم محکمے صوبائی حکومت میں ضم کردیئے گئے، جو اب اپنے انجام سے دوچار ہورہے ہیں۔حتی کہ شہر سے کچرا اٹھانے کا کام بھی بلدیات سے لیکر صوبے نے خود سنبھال لیا، چین سے سینکڑوں گاڑیاں منگوائی گئیں، تاہم دو سال میں ہی وہ ناکارہ ہونے لگی ہیں، اس شہرِ لاوارث میں کچرے کے ڈھیر ہیں کہ بڑھتے ہی جارہے ہیں، اس پروجیکٹ پر خرچ کئے جانے والے اربوں روپے ضائع ہونے کے قریب ہیں۔ جبکہ کراچی میں کچرا اٹھانے کا کوئی موثر نظام وجود میں نہیں آسکا۔
آپ کو یاد ہوگا کہ سن دو ہزار پانچ سے آٹھ کے درمیان بیرون ملک سے کراچی لوٹنے والے لوگوں کو یقین نہیں آتا تھا کہ یہ وہی شہر ہے جسے وہ چار پانچ سال پہلے تباہ حال چھوڑ گئے تھے ، اور اب کراچی میں سیاہ سڑکیں ، پل، انڈر پاسز ، فٹ پاتھ اور جدت پر مبنی تعمیرات انہیں حیران کئے دیتی تھیں، جی ہاں ان کی حیرانی بجا تھی، وہ سابق صدر پرویز مشرف کا دور تھا، اس دور میں ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی متعدد نئے پل ، انڈر پاسز ، سڑکیں اور دیگرمنصوبے مکمل ہوئے، جبکہ علاقوں کی اندرونی سڑکیں اور گلیاں بھی پکی ہوگئی تھیں، سیوریج کا نیا نظام بھی ڈالا گیا تھا،آج دس سال بعد بھی وہی پروجیکٹ عوام کے کام آرہے ہیں ، تاہم اس دوران جن تعمیرات کو مرمت کی ضرورت پڑی ، ان کی مرمت کا کوئی انتظام نہیں ہوسکا۔ کراچی والوں نے آخری دس سالوں میں اپنے شہر اور اس کے نظام کو اپنی آنکھوں کے سامنے تباہ ہوتے دیکھا۔اس کار خیر میں صرف صوبے کی حکمراں جماعت ہی نے نہیں بلکہ ان کی ماضی کی اتحادی ایم کیوایم نے بھی چائنا کٹنگ کی صورت میں اپنا بھرپورحصہ ڈالا۔شاید اسی لئے شہرِ قائد اب شہرِ لاوارث کہلاتا ہے۔
انسان نے اپنی آنکھوں سے جو دیکھا ہو وہ اسے کبھی نہیں بھول سکتا۔گزشتہ روز فیس بک پر ایک تازہ ویڈیو شیئر کی گئی، جس میں موٹر سائیکل پر کرتب دکھانے والے ایک نوجوان کو دکھایا گیا، جو کراچی میں لیاقت آباد کے پل پر موٹر سائیکل پر لیٹ کر کرتب دکھا رہا تھا، تاہم اگلے ہی منٹ وہ حادثے کا شکار ہوگیا اور اس کی موقع پر ہی جان چلی گئی۔یہ منظر شاید میں کبھی نہ بھول سکوں ، اس کے مرنے کا افسوس اس کی ماں ، باپ اور بہن بھائیوں کیلئے ضرور ہے، جنہیں وہ دل کا داغ دے گیا، ورنہ مرنے والا تو اسی انجام کا مستحق تھا، کراچی کے شہری مصروف سڑکوں پر موٹر سائیکل کے کرتب دکھانے والے ان مجرم نما کرتب بازوں سے سخت عاجز ہیں، جو اکثر سڑکوں پر دوسروں کی زندگی سے بھی کھیل جاتے ہیں، بہت سوں کی جان جاتی ہے اور بہت سے معذور ہوجاتے ہیں، یہ کرتب باز خود بھی اکثر مرتے رہتے ہیں، لیکن ان کے مرنے پر لوگوں کا کہنا یہی ہوتا ہے کہ ان کا یہی انجام ہونا تھا۔ قانون سے کھلواڑ ،اپنی اسپیڈ سے لوگوں کو سڑکوں پرتنگ کرنا ، ہیلمٹ اور دوسرے حفاظتی اقدامات پر بالکل عمل نہ کرنا اور بلاوجے کا ایڈونچر ، ان کرتب بازوں کی یہ وہ منفی خصوصیات ہیں،جن کی وجہ سے لوگ ان کے فن کی داد دینے کے بجائے انہیں گالیوں سے نوازتے ہیں۔
خوامخواہ کا ایڈونچر اور بے مقصد جدوجہد اکثر توانائیاں اور حتی کے زندگیوں کے ضیاع کا سبب بن جاتی ہے۔اکثرہم سنتے ہیں سوشل میڈیا پرمنفی انداز سے سرگرم کوئی بندہ دوسری دنیا سدھار گیا، ایسی خبریں سن کر لوگوں کو اکثر ان موٹر سائیکل کے کرتب بازوں کا خیال آجاتا ہے ، سوشل میڈیا کے کرتب باز بھی چند سو یا چند ہزار لائیکس کی بدولت خود کو قوم کا اور مذہب کا مصلح سمجھ لیتے ہیں، اور بغیر ہیلمٹ سوشل میڈیا کی شاہراہ پر بہت تیزی سےدوڑنے لگتے ہیں، وہ جذبات میں نہ کچھ سوچتے ہیں نہ کسی کی بات پر غور کرتے ہیں بس اپنی رفتار بڑھائے جاتے ہیں ، یہ سوشل میڈیا مجاہد اپنے نظریات کے پرچار میں اس قدر آگے نکل جاتے ہیں کہ معاشرے میں اپنے بے شمار مخالفین پیدا کرلیتے ہیں،مخالفین کی تعداد کے ساتھ انہیں سراہنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔یوں معاشرے میں خلفشار اور ہیجان کو فروغ ملتا ہے، کچھ نادان لوگ ان ایکٹی وسٹس کی پیٹھ ٹھونک کر انہیں اتنا آگے پہنچا دیتے ہیں کہ ان کے سامنے گہری کھائی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔یوں موٹر سائیکل کے کرتب بازوں کی طرح کچھ ایکٹی وسٹ اور بے مقصد مجاہد بھی ایک دن ماضی کا حصہ بن جاتے ہیں۔
دوستوں ۔ سوشل میڈیا وہ پلیٹ فارم ہے جہاں خبروں ، اطلاعات اور معلومات سے ذیادہ اب پروپیگنڈے کا طوفان ہے ، اس طوفان میں جذباتی لوگوں کے متاثرہونے کے امکانات بہت ذیادہ ہوتے ہیں، اور یوں اس دنیا میں ہر روز ایسے افراد کا اضافہ ہوتا رہتا ہے،جو کسی بات کو زندگی کا مشن تو بنا لیتے ہیں ، لیکن ان کی زندگی کا معاشرے میں کوئی مثبت حصہ نہیں رہتا۔شاید اسی لئے اب یہ سوالات بہت شدت سے اٹھ رہے ہیں کہ سوشل میڈیا پر لوگوں کو کتنی آزادی دی جائے۔معاملہ سنگین ہے جلد کوئی حل سوچنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں