یہ جو رب ہے یہی سب ہے (محمد شعیب یارخان)

تم اب خود بری طرح قید ہومحصور ہوبند ہو۔۔ تم وہ ہی ہو جو خود کو خدا سمجھ بیٹھے تھےآج ایک نہ نظر آنے والے انتہائی معمولی اور چھوٹے سے وائرس کی سبب گھروں میں قید ہوچکے ہو۔آج خود کو سپر پاور کہلوانے والے سمجھنے والے اپنی جان بچانے کے درپے ہو۔۔جو ظلم کرکے قتل کرکے دہشت گردی کو پروان چڑھا کر اپنی طاقت کے بل بوتے پر خود کو خدا کے برابر سمجھنے لگے تم نے سرکشی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے مگر آج اپنی تمام تر طاقت کے باوجود یہ سمجھنے سے قاصر ہو کہ ایسا کیا ہوا کہ سب تہس نہس ہوگیا ایک وائرس نے پھر پتھروں کے دور میں پھینک دیا جہاں تم ایک دوسرے سے انجان خود کو بچانے کے لئے اپنا سب کچھ داو پر لگانے کو تیارہو۔۔
نہ اب کوئی سائینس کام آرہی ہے نہ ترقی کا جنون جس کے لئے تم نے نہ جانے کتنے معصوموں کا خون بہایا ملکوں پر قبضے کیے بدمست ہاتھی کی طرح جہاں چاہا چڑھائی کردی مگر اب صرف اپنے بقا کی جنگ ہے جو چیخ چیخ کر پوچھتی ہے کہ زمین پر ظلم ڈھاکر اسے لہولہان کرکےکہاں ہے تمھارے کائینات کو تسخیر کرنےکے دعوے۔تمھاری اوقات فقط اتنی بھی نہیں کہ خود کو بچا سکو تو پھر کیوں ظلم کے بازار گرم کیے تم نے۔فلسطین،کشمیر،شام، افغانستان،مصر یا پھر جہاں بھی تم نے معصوموں کا بے دریغ قتل عام کیا۔۔ کیا تمھیں کبھی اندازہ بھی ہوا کہ تم رب کائنات کےایک معمولی سے وائرس کی مار ہو۔
قصور یہ نہیں کہ تم نے کائینات کے رازوں سے پردے اٹھانے کی جسارت کی ۔۔۔ ماجرہ کچھ یوں ہے کہ تم نے اپنی طاقت کا استعمال بنی نوع کو تباہ کرنے ان پر قبضہ کرنے پر صرف کیا ان پر مظالم کے وہ پہاڑگرائے جن سے بچنے کا ان مظلوموں کے پاس سوائے بددعاوں کے کوئی آسرا نہ تھا۔ تم نے بچے دیکھے نہ جوان مائیں دیکھی نہ بوڑھے۔۔بس ایک نشہ تھا طاقت کا جس کا مجرمانہ استعمال تمھاری تسکین کا سامان تھا۔۔ تم نے متحد نہیں تقسیم کیا وہ بھی اپنی شرائط پر۔۔۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ رب نے تمھیں بہت نوازا کیونکہ جو حق دار ہے وہی کامیاب ہوتا ہے تمھاری جستجو تمھارا علم تمھاری محنت ہی تھی کہ جو تم کھوجتے تم پر عیاں ہوجاتا یہ بھی رب کی ہی منشا تھی موقع دیا کہ شاید تم انسانیت کی فلاح میں اپنا کردار ادا کرو مگر جب تم سرکشی کی تمام حدیں پار کرنے لگو گے تو پھر جان لو وہی رب ذوالجلال تمھے ایک وائرس سے فنا کردے گا۔۔
تم رب کو نہیں مانتے خود کو سب کچھ کو مانتے ہو۔۔ مگر تم بھول گئے کہ جو رب ہے وہی سب ہے۔۔۔اور اسے ناراض تو صرف تم نے ہی تو نہیں کیا رب کے ماننے والے کیا ہم۔۔ تم ۔۔سے کم قصوروار ہیں۔جب کبھی ہمارے اپنو ں پر ظلم وستم ہوا خاموش رہے بہت سے نے تو تمھاری خوشنودی کے لئے اپنوں پر ہونے والے ظلم کے برابرکےحصے دار بنے۔
ہم رب سے زیادہ دوسرے کے بھروسے رہے۔ہم نے ناپ تول میں کمی۔ذخیرہ اندوزی سے لیکر ہر وہ گناہ ہر ظلم کیا جو رب کے جلال کو آواز دینے کے لئے کافی تھا۔اور تو اور اپنے بہن بھائیوں پر ہونے والے مظالم کو دیکھ کر ایسے آنکھیں بند کی ہوئی تھیں جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر کرتا ہےہم تو یہ بھی بھول گئے تھے کہ گھن کے ساتھ گیہوں بھی پستا ہے۔ہمارا کعبہ بند مساجد بند سب کی عبادت گاہیں بند کاروبار بند ملک کے ملک بندمگرصرف توبہ کا دروازہ ابھی بھی کھلا ہے۔۔ابھی بھی وقت ہے کشمیر کو دیکھو جہاں لاک ڈاون پچھلے سال سے ہے ہم تو اب قید ہوئے کشمیری تو کب سے قید ہیں۔فلسطین میں ہونے والے مظالم ہوں یا شام میں بے گناہوں کا قتل عام۔۔۔ ابھی بھی وقت ہے لوٹ آئیں سب۔ورنہ کوئی نہیں بچے گا ۔
گذشتہ کئی سالوں سے ملنے والی بددعائیں اب رنگ لانے لگی ہیں۔ظالم کو ظالم کہنا پڑے گا اسے روکنا ہوگا۔یہ مرض نہیں درس ہے اس سے سبق حاصل کر کے ہی پوری دنیا کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔رب ذوالجلال معاف کرنے والا ہے اس ہی کی ساری بادشاہی ہے خود سے مان لو ورنہ وہ منوانا بھی جانتا ہے کہ وہ جو رب ہے وہ ہی سب ہے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں