اسٹریٹ کرائم کے خلاف دوطرفہ کارروائی کا فیصلہ

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اسٹریٹ کرائم کے خلاف دو طرفہ کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔

وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی اجلاس میں وزیر اطلاعات شرجیل میمن، وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، کور کمانڈر لیفٹننٹ جنرل بابر افتخار اور دیگر نے شرکت کی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چوری کا سامان جس بازار میں فروخت ہوتا ہے، وہاں کارروائی ہوگی، اسٹریٹ کرمنلز کے مکمل ڈیٹا پر پولیس کی سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ باقاعدہ کام کرے گی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ہر صورت دہشت گردی اور ڈرگ مافیا کا خاتمہ، امن و امان کی بحالی چاہتے ہیں، کچے میں ڈاکوؤں اور کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے کے لیے اقدامات کررہے ہیں، سندھ حکومت نے پہلے بھی امن بحال کیا اور اب بھی کریں گے، آئی جی اسٹریٹ کرائم کے خلاف سخت اقدامات کریں۔

اجلاس میں آئی جی سندھ نے بتایا کہ جنوری سے مارچ تک 44 مقدمات داخل کیے، 47 مجرموں کو گرفتار کیا اور ایک دہشت گرد مارا گیا، نفرت انگیز مواد کے پھیلاؤ کے خلاف 2024ء میں 36 افراد گرفتار کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ غیر قانونی اسلحے کے خلاف 2024ء میں سخت کارروائی کی ہے، غیر قانونی اسلحے کے 2769 مقدمات داخل کیے اور 2769 ملزم گرفتار کیے، رواں سال مختلف قسم کے 2822 ہتھیار برآمد کیے۔

آئی جی سندھ کا کہنا ہےکہ رواں سال جنوری تا اپریل 6813 موبائل فون چھیننے کے واقعات ہوئے، 2023ء میں 655 فور وہیکل گاڑیوں کی چوری کے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ رواں سال 520 فور وہیکل گاڑیوں کی چوری کے کیسز رپورٹ ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ 2023ء میں 16298 موٹر سائیکلز چوری ہوئیں، 2024ء میں 15345 چوری ہوئیں، سندھ بھر میں 618 اور کراچی میں 108 پولیس اسٹیشن ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئی جی سندھ تھانوں کو مضبوط اور بہتر کریں، شاہین فورس کو دوبارہ فعال کریں، شاہین فورس کرائم ہونے والی جگہوں پر پیٹرولنگ کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں