چولستان میں مدفون 5 ہزار سال پرانے شہر کی کھدائی کا فیصلہ

ماہرین آثار قدیمہ نے چولستان کے صحرا میں مدفون 5 ہزار سال پرانے شہر کی کھدائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، گنویری والا کے ٹیلوں کا سراغ 1975 میں لگایا گیا تھا ،ماہرین کا خیال ہے کہ وادی سندھ کی قدیم تہذیب کے شہروں ہڑپہ اور موہنجوداڑو کے بعد گنویری والا تیسرا بڑا شہر تھا۔

گنویری والا کے ٹیلے، قلعہ دراوڑ سے تقریباً 60 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہیں، یہ مقام موہنجوداڑو اور ہڑپہ کے درمیان میں واقع ہے ، موہنجوداڑو سے اس کا فاصلہ 340 جبکہ ہڑپہ سے 260 کلومیٹر ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ علاقہ دریائے ہاکڑہ کے کنارے آباد تھا اور اس شہر کے باسی کاشت کاری کرتے اور مویشی پالتے تھے لیکن اب یہاں اس شہر کے کھنڈرات اور دریائے ہاکڑہ کے آثار ہی نظرآتے ہیں۔

یہ آثار 1975 میں ڈاکٹر محمد رفیق مغل سابق ڈائریکٹر جنرل پنجاب آرکیالوجی نے دریافت کیے تھے لیکن آج تک یہاں کھدائی نہیں کی جاسکی ۔ جس کی بڑی وجہ وسائل کی کمی ، سائٹ کے قریب پانی اور افرادی قوت کی عدم دستیابی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں