اجتماعی کام کا وقت

تحریر: بنتِ اسماعیل۔

عید قربان کی آمد آمد ہے۔ جانوروں کی خریداری کیلئے جوش و خروش شروع ہونے والا ہے۔ قربانی دراصل ایک اہم عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے۔ نیز یہ سنت ابراہیمی کی یاد کا عملی مظاہرہ بھی ہے۔ قربانی خالص روحانی تصور اور اعلی ترین انسانی صفت ہے جو اللہ تبارک و تعالی کے ہاں بے حد مقبول ہے اور پسندیدہ فعل ہے۔ عید الضحیٰ کا تہوار ہمارے اندر اسی قربانی کے جذبے کو برقرار رکھنے کے لیے ہے ۔

ہم ساڑھے چودہ سو سال سے قربانی کے اس تہوار کو منا رہے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آج ہم اس کے اصل مقصد کو بھول کر ظاہری نمود و نمائش میں پڑ گئے ہیں ۔ جانوروں کی شکل و صورت ، ان کی قیمت کی بے پناہ تشہیر کی جانے لگی ہے۔ جس کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ اصل قربانی تو باپ اور بیٹے کی گفتگو تھی۔ دنبہ تو قربانی کا ایک فدیہ تھا کتنی حیرانی کی بات ہے نہ کہ ہمیں صرف دنبہ یاد رہا اور گفتگو یاد نہ رہی۔ قربانی تو اللہ کی محبت ہے۔ اس کی وفاداری ہے۔ اس کے لیے ہر شے کو قربان کرنے کے لیے تیار رہنا ہے ۔

آج کے دور میں اسلام کی اصل قربانی کا زندہ و جاوید شاہکار فلسطین ہے۔ جہاں ہر رشتہ اپنے خونی رشتوں کی، اپنے دل کے ٹکڑوں کی قربانی دے رہا ہے اور ہر شخص اللہ کی خاطر اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے چاہنے والوں کو سپرد خاک کر رہا ہے۔ وہاں کی مائیں اپنی کوکھ سے جنم دیئے ہوئے بچوں کی لاشیں اٹھائے پھر رہی ہیں ۔ان کی آنکھوں سے غم کا سمندر بہہ رہا ہے مگر چہرہ مطمئن، زبان پرسکون ……. کیا یہی ہے وہ نفس مطمئنہ؟ جس کا ذکر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قران پاک میں فرمایا ہے، دکھوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا مگر زبان پر ایک ہی کلمہ،،، حسبنا اللہ ونعم الوکیلوسائل نہیں ہیں ۔

ذرائع نہیں ہیں ۔ پھر بھی یہ یقین ہے کہ اللہ مسبب الاسباب ہے۔ وہ اسباب کا محتاج نہیں ہے۔ کیا یہی یقین اللہ پر ایمان کی بنیاد نہیں ہے؟ ان کی زندگیوں میں جو اللہ تعالی سے ملاقات کا شوق ہے وہ ان کے دلوں میں خوف پیدا نہیں ہونے دیتا اور ان کی یہی بے خوفی قربانیاں پیش کرنے کی اصل بنیاد ہے اور جنت تک جانے کا راستہ ہے ۔

بعض لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں قربانی دیئے بغیر جنت مل جانی چاہیئے اور انہیں اللہ کا محبوب بن جانا چاہیئے اور انہیں اعلیٰ مقام اور درجات مل جانے چاہئیں ۔منافقین کا طرز عمل ایسا ہی تھا کہ ہم دیندار بھی کہلائیں اور کوئی محنت بھی نہ کرنی پڑے ۔انفرادی طور پر ہم عمل سب کر لیتے ہیں۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ،،،، مگر جہاں اجتماعی کام کا وقت آتا ہے تو ہم اس کام کو اپنا نہیں سمجھتے۔

ہمیں اکٹھے ہو کر آگے بڑھنا ہوگا۔ قربانی دیناہوگی۔ مل جل کر بڑے مقصد کے لیے قربانی کی تیاری کرنا ہوگی۔ دنیا کی کوئی کامیابی آخرت کی کامیابی سے بڑھ کر نہیں۔ زندگی کے ہر میدان میں سنت ابراہیمی کے پیروکار بننا ہوگا اور زندگی کو واقعی اس عہد کی عملی تصویر بنانا ہوگا ۔”بے شک میری نماز اور میری قربانی، میری زندگی اور میری موت ، ایک اللہ کے لئے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے جس کا کوئی شریک نہیں”۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں