ایک انمول گیت

1967 میں فلم دیوانہ ریلیز ہوئی تو راج کپور کی بھولی بھالی اداکاری کی دھوم مچ گئی۔۔خاص طور پرفلم میں سائرہ بانو کی رخصتی کا سین دیکھنے والوں کے دلوں کو تڑپا گیا۔۔

سائرہ بانو کی رخصتی کےاس سین سے جڑا تھا وہ گیت ۔ جو فلم دیوانہ کی پہچان بن گیا۔۔

اس گانے کی خوبصورتی یہ تھی کہ اس کے بول فلم میں راج کپور کی معصوم اداکاری کی مناسبت سے لکھے گئے تھے۔

شیلندرا کے لکھے اس گانے کے بول ۔۔ فلم میں راج کپور کے معصومانہ کردار پر بالکل پورے اترے۔

کہتے ہیں۔پیار میں زور نہیں چلتا۔۔ درد سہنا بھی محبت ہی کی نشانی ہے۔ اس گانے میں بھی کچھ ایسا ہی نظر آیا۔۔

رخصتی کا وقت دو دلوں پر کتنا بھاری ہوتا ہے۔۔ اس گیت میں راج کپور اور سائرہ بانو نےان لمحات کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا۔۔

گیت میں اگر محبت کے ساتھ حسرت بھی شامل ہو۔۔ تو اُس دور میں ایسے گیت کیلئے مکیش کے سوا کسی پر نظر نہیں جاتی تھی ۔

مکیش کی آواز اس گانے کیلئے انگوٹھی میں نگینہ ثابت ہوئی ۔۔ساتھ ہی شنکر اور جے کشن کی موسیقی نے بھی اپنے فن کو منوایا۔ اور یہ گانا دنیا بھر اپنی شہرت کے جھنڈے گاڑ گیا ۔۔

وقت گزرتا گیا ۔۔

آج اس گیت کو نصف صدی سے زائد عرصہ بیت چکا ہے ۔ آج راج کپور ، مکیش ، شیلیندرا ، شنکر اور جے کشن اس دنیا میں نہیں ۔۔

لیکن ان کی یہ حسین کاوش آج بھی زندہ و تابندہ ہے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں