نان فائلرز کے بینک اکاﺅنٹ بلاک کرنے کا عندیہ

اسلام آباد : حکومت نے نان فائلرز کے بینک اکاﺅنٹ بلاک کرنے کا عندیہ دیدیا، نان فائلرز اپنے اکاﺅنٹس میں رقم جمع تو کراسکیں گے لیکن اس رقم کو نکلوا نہیں سکیں گے۔نان فائلرز اگرنوٹس کا جواب نہ دیں تو حکومت ان کے بینک اکاﺅنٹ بلاک کرنے کی تجویز پر غور کرسکتی ہے جب تک وہ ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل نہ کرلیے جائیں۔

ذرائع کے مطابق نان فائلرز کے بینک اکاﺅنٹ فریز کرنے کی تجویز فنانس بل 2024 ءکے اصل مسودے میں شامل تھی تاہم اسے منظور نہیں کیا گیا تھا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نان فائلرز کے ناموں پر مشتمل دی انکم ٹیکس جنرل آرڈر جاری کرے گا جس کے تحت تجویز کو ترمیم شدہ فنانس بل 2024 ء کا حصہ بنائے جانے کی صورت میں بینک اکاﺅنٹ بلاک کیے جاسکیں گے۔ایف بی آر حکام کے مطابق ترمیم شدہ فنانس بل 2024ء کے تحت 25 فیصد سیلز پروموش اور اشتہاری اخراجات کے ڈِز الاﺅنس کے قانون پر نظرِثانی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

حکومت نے حالیہ وفاقی بجٹ میں 25 فیصد سیلز پروموشن اور اشتہاری اخراجات کا الاﺅنس رائلٹی اری نجمنٹ کے تحت ختم کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹیکس قوانین کو نافذ کرنے کے لیے حکومت نے ایک نیا ضابطہ لاگو کیا ہے جو موبائل سم کو بلاک کرنے اور خوردہ فروشوں کو تاجر دوست اسکیم (ٹی ڈی ایس) کے تحت رجسٹر ہونے کی اجازت دیتا ہے،اس اقدام کا مقصد ان افراد کے لیے سیلولر سروسز کی معطلی کو فعال کرنا ہے جو ٹیکس کے ضوابط پر عمل نہیں کرتے14مئی سے ایف بی آر نے 3 بڑی ٹیلی کام کمپنیوں ، ٹیلی نار، یوفون اور جاز کو نان فائلرز کے تقریباً ایک لاکھ 65 ہزار شناختی کارڈ بھیجے ہیں تاکہ ان کے سم کارڈز کو بلاک کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں