بلراج کومل (25ستمبر1928 تا 26 نومبر2013)

*

اردو شعر و ادب کی معروف شخصیت ، ادیب ، شاعر ، نقاد اور افسانہ نگار
آنجہانی بلراج کومل ٢٥؍ستمبر١٩٢٨ء کو سیالکوٹ (پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ تقسیم وطن کے بعد انہوں نے دہلی کو اپنی رہائش گاہ بنایا اور اپنے علم ، محنت ، سچی لگن ، انکساری اور نرم گفتاری کے باعث لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی۔
بلراج کومل کا ادبی سفر تقسیم وطن کے ناگفتہ بہ حالات میں شروع ہوا۔ اردو ادب کے تئیں ان کے سنجیدہ رویہ کی وجہ سے ہی ان کا شمار صف اول کے ادیبوں میں ہوتا تھا۔ بلراج کومل کو ہندوستان کی سب سے اعلیٰ اور موقر ادبی تنظیم ساہتیہ اکادمی نے ان کے شعری مجموعے “پرندوں بھرا آسمان” کو 1985 میں ایوارڈ سے نوازا تھا۔ ٢٠١١ء میں انہیں حکومت ہند کی جانب سے پدم شری کا خطاب بھی ملا تھا۔
ان کی تصنیفات میں میری نظمیں ، رشتۂ دل ، اگلا ورق ، آنکھیں اور پاؤں (کہانیوں کا مجموعہ) اور ادب کی تلاش (تنقید) شامل ہیں۔
وہ ایک معروف مترجم بھی تھے۔ انہوں نے انگریزی ، ہندی ، اردو اور پنجابی کی تخلیقات ایک دوسری زبانوں میں منتقل کیے ہیں۔
بلراج کومل ٢٦؍نومبر ٢٠١٣ء کو مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے۔

✦•───┈┄╌╌╌┄───•✦

💖 شاعر بلراج کومل کی منتخب غزلیں .. 💖

دل کا معاملہ وہی محشر وہی رہا
اب کے برس بھی رات کا منتظر وہی رہا

نومید ہو گئے تو سبھی دوست اٹھ گئے
وہ صید انتقام تھا در پر وہی رہا

سارا ہجوم پا پیادہ چوں کہ درمیاں
صرف ایک ہی سوار تھا رہبر وہی رہا

سب لوگ سچ ہے با ہنر تھے پھر بھی کامیاب
یہ کیسا اتفاق تھا اکثر وہی رہا

یہ ارتقا کا فیض تھا یا محض حادثہ
مینڈک تو فیل پا ہوئے اژدر وہی رہا

سب کو حروف التجا ہم نذر کر چکے
دشمن تو موم ہو گئے پتھر وہی رہا

─━━━═•✵⊰•••••••⊱✵•─━━━═

کھویا کھویا اداس سا ہوگا
تم سے وہ شخص جب ملا ہوگا

قرب کا ذکر جب چلا ہوگا
درمیاں کوئی فاصلہ ہوگا

روح سے روح ہو چکی بد ظن
جسم سے جسم کب جدا ہوگا

پھر بلایا ہے اس نے خط لکھ کر
سامنے کوئی مسئلہ ہوگا

ہر حماقت پہ سوچتے تھے ہم
عقل کا اور مرحلہ ہوگا

گھر میں سب لوگ سو رہے ہوں گے
پھول آنگن میں جل چکا ہوگا

کل کی باتیں کرو گے جب لوگو
خوف سا دل میں رونما ہوگا

✧◉➻═════════➻◉✧

انتخاب : کامران مغل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں