*عورت آزادی مارچ یا بے حیائی؟( کامران بونیری)

عورت آزادی مارچ کا مقصد اپنی تحریر کے آغاز میں بتاتا چلوں کیونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بڑے بڑے کرتا دھرتا *عورت آزادی مارچ” کے نام پہ بے حیائی اور بے غیرتی کی مکمل حمایت کر رہے ہیں اب یہ حمایت اسلام دشمن قوتوں کی جانب سے کی جانے والی مبینہ فنڈنگ کا نتیجہ ہے یا نا سمجھی اس کا فیصلہ تو بہت جلد اللہ پاک کی عدالت میں ہو ہی جائے گا اور وہ تمام زمہ داران جو اس برائی کو روکنے کا پورا اختیار اور طاقت رکھنے کے باوجود خاموش تماشائی بنے دین اسلام کا مذاق اڑانے والوں کی پذیرائی کا سبب بن رہے ہیں یہ سب کردار اللہ پاک کی عدالت میں عبرتناک انجام سے دوچار ہوں گے-“عورت آزادی مارچ” کا صرف ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے ہماری مشرقی باپردہ عزت دار خواتین کو سڑکوں پہ زلیل کرنا اور آہستہ آہستہ آن کی اس طرح برین واشنگ کرنا کہ خواتین سڑکوں پہ برہنہ ناچ کریں اور کوئی انہیں روکنے ٹوکنے اور پوچھنے والا نہ ہو….. اور یہ سب کرنے کے لیے اسلام دشمن قوتیں اربوں کی فنڈنگ کر رہی ہیں اور ہمارے اپنوں کو ہی استعمال کرکے ہمارے معاشرے کو برباد کرنے کا منصوبہ پایہ تکمیل کی جانب رواں دواں ہے-افسوس صد افسوس کے دن اسلام نے عورت کو ماں بہن بیٹی بیوی بھانجی بھتیجی بھابھی دادی ہر روپ میں جو وقار عزت مرتبہ اور حقوق دیئے ہیں یہ نا سمجھ خواتین ان سب کو خود اپنے ہی ہاتھوں برباد کر دینا چاہتی ہیں- میڈیا سے وابستہ زندہ ضمیر ہم چند دوست ایک دوست کی شادی میں شریک تھے اور “عورت آزادی مارچ پہ اپنی اپنی رائے دے رہے تھے کہ ایک دوست نے کہا “عورت آزادی مارچ” میں مرد بیچارہ کب تک پستا رہے گا، مرد کیا کرے، کہاں جائے، کہاں کہاں سے خود کو بچائے، کہاں سر ٹکرائے۔ دوسرا دوست بولا ایک تو ان عورتوں کو بھی چین نہیں۔ پچھلے برس “عورت آزادی مارچ” کے کھوکھلے اور بیہودہ نعروں سے مرد ایسا ڈرا کہ سارا سال مردوں کے سروں پہ ایک تلوار سی لٹکتی رہی اور لو جی اب پھر مارچ آگیا عورتوں کیساتھ، عورتیں پھر اکٹھی ہو رہی ہیں، ہمارے خلاف منصوبے بنا رہی ہیں، باوثوق ذرائع سے خبر ملی ہے کہ خاص کر شادی شدہ خواتین کو نعرے بنا کر لانے کا کہا گیا ہے اب دیکھو تو سہی کیا وقت آگیا ہے پہلے عورتوں کو کھانے بنا کر لانے کا کہا جاتا تھا کہ مرد کے دل کا راستہ معدے سے ہو کر گزرتا ہے لیکن اب مردوں کیخلاف نعرے بنا کر لانے کا کہا جا رہا ہے اور عورتوں سے کہا جارہا ہے کہ مرد کو اپنا غلام بنانے کے لیے عورت کو زیادہ سے زیادہ خطرناک نعروں سے واقف ہونا ضروری ہے۔اسلام دشمن این جی اوز کی آلہ کار بننے والی مشرقی خواتین اپنا کھانا خود گرم کرو سے لیکر میرا جسم میری مرضی تک تو پہنچ گئیں ہیں، اب خدا جانے یہ اور کیا کیا گل کھلائیں گی اور کیا کیا دیکھنے اور سننے کو ملے گا۔ یہ خواتین اب کیا اور کونسا نیا نعرہ لے کے آئیں گی جس پہ یہ عورتیں مزید چوڑی ہو جائیں گی۔ اب مرد جتنا بھی بے باک سہی لیکن بیچ چوراہے پر اپنی بیوی کی بات ہر گز نہیں کرتا۔یہ ناسمجھ بیویاں اپنا اندرونی کھاتہ بیرون خانہ کھولنے آگئیں ہیں۔ مرد بیچارہ تو سمجھو شرم سے ڈوب مرا ہے۔ ایک اور دوست بولا ارے یار ان عورتوں کو کون سمجھائے کہ “مرضی میری ہو یا تیری” بات تو ایک ہی ہے، کمرے کی بات تھی کمرے میں ہی سلجھائی جا سکتی تھی لیکن نہ جی آگئیں سڑکوں پہ اور کہتی ہیں بات ہوگی تو میدان میں، شرم گئی تیل بیچنے۔ موجودہ بیہودگی میں ہم مردوں کو تو پڑ گئے ہیں اب اپنی عزت کے لالے۔ اپنی عزت، غیرت اور پتہ نہیں کیا کیا داؤ پہ لگا ہوا ہے اور قانون کے رکھوالے ہیں کہ آنکھوں پہ پٹی باندھے لمبی تان کے اونگھ رہے ہیں۔ کوئی ہے جو ہم مظلوموں کی بھی سن لے، یہ کس موڑ پہ لے آئیں ناسمجھ خواتین، ایک اور دوست ہنسا اور بولا “ہلائی ہے ہم نے عدل کی زنجیر، ہے کوئی ہمیں بھی انصاف دلانے والا” لیکن یہ بیویاں چھوڑ کے فرض، مار کے حق کا نعرہ, پہنچ گئیں ادھر بھی ہمارے پیچھے۔ ارے ہم نے تو ایسے ہی دنیا کے دکھاوے کے لیے شیر سی دھاڑ رکھی ہوئی ہے ورنہ کون نہیں جانتا کہ بیوی کے سامنے شیر بھی ڈھیر ہو جاتا ہے۔ بیچارہ کونے میں دبکا رہتا ہے، رائٹر ہو یا فائٹر، ڈی ایس پی ہو یا آئی جی، وزیر ہو یا فقیر سبھی ہوم منسٹر یعنی کہ اپنی بیوی سے ڈرتے ہیں۔پھر بھی اسلام دشمن این جی اوز کو چین نہیں آیا اور ہماری مشرقی باپردہ خواتین کو “عورت آزادی مارچ” کے نام پہ سڑکوں پہ خوار کرنے کے لیے لے آئی-مرد ذرا لیٹ ہو جائے تو بیوی کے ڈر سے اپنے ہی گھر میں چوروں کی طرح داخل ہوتا ہے، چور تو پھر چور ہے, مرد باہر چاہے گن پوائنٹ پہ لٹ کر آیا ہو لیکن گھر میں سہما سہما ہی آتا ہے کہ اگر کھٹکے سے ہوگئی بیوی کی نیند خراب تو آجائے گا اک نیا عذاب۔ایک اور دوست بولا ارے یار ہم مرد تو ان سے اتنا ڈرتے ہیں کہ خود کو کھلا چھوڑنا تو دور کی بات ہم مرد تو ان عورتوں کے خوف سے اپنے موبائل تک کو لاک لگا کر رکھتے ہیں۔ یہ معصوم نظر آتی بیویاں ہم بیچارے مردوں کا جو حال کرتی ہیں اس کا درد بس مرد ہی جان سکتا ہے لیکن اب تو دنیا بھی جان چکی ہے کہ ان معصوم چہروں نے ہم مظلوموں کا جو حال کر رکھا ہے وہ لفظوں میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں۔ صبح دفتر جاتے وقت ہم اپنے کپڑے خود استری کرتے ہیں، رات واپسی پر اپنا کھانا خود گرم کرتے ہیں اور پھر بھی یہ عورتیں کہتی ہیں کہ “میرا جسم میری مرضی”۔ وہ تو ہم بھلے مانس ہیں جو ان کی دل آزاری کے خیال سے چپ رہتے ہیں ورنہ سوچو اگر ہم نے بھی آگے سے یہی کہہ دیا تو۔….. ارے اگر ہم صرف چند دن ان سے دور رہیں تو پھر دیکھو، کتنے دن برداشت کرتی ہیں ہماری قربت کی فرقت کو یہ عورتیں-ان کی آنکھوں میں آنسو آئیں تو ہم زمانے سے ٹکرا جائیں، خود دھوپ میں کھڑے ہوں لیکن انہیں چھاؤں فراہم کریں، بس میں انہیں سیٹ پہ بٹھا کر خود کھڑے ہو جائیں، سفر پہ جانا ہو گاڑی ہم چلائیں اور تھک تھک یہ جائیں، گھر میں کوئی چور ڈاکو آجائے تو ڈر کے مارے چاہے ہماری اپنی جان ہی کیوں نہ نکل رہی ہو لیکن ان کو اپنے پیچھے چھپا کر پستول کے سامنے سینہ تان کر ہم کھڑے ہوں کہ انہیں کچھ نہیں کہنا، اجی کما کر ہم لائیں لیکن عیش انہیں کروائیں، سردی میں خود چاہیں ٹھٹھڑتے رہیں لیکن انہیں نازک جان کر اپنی جیکٹ اتار کر ہم انہیں دیں، انہیں اے سی کی ٹھنڈک فراہم کرنے کو دھوپ میں مارے مارے ہم پھریں، اپنے دوستوں کا پیار اور چھٹی قربان کر کے ان کی خاطر صرف سسرال کو پیارے ہو جائیں، اپنی ساری کمائی ان کے ہاتھوں پہ رکھ کے ان سے سگریٹ تک کے پیسے مانگتے رہیں، غلط آنکھ اگر ان پر اٹھے تو غیرت ہم کھائیں، ان کی حفاظت کے لئے اپنی جان تک گنوا دیں، ارے ظلم کی حد اس سے زیادہ اور کیا ہوگی کہ یہ ہمارے خلاف بولیں تو انہیں تحفظ دینے بھی ہم ہی پہنچیں اور ہمارے ہی خلاف نعرے لگانے والیوں کی حفاظت پہ مامور بھی ہم ہی رہیں۔کوئی ہم مردوں کی بھی تو فریاد سن لے، کوئی تو روکے انہیں۔ لو جی ہم سب کچھ کر لیں گے، جو کہا آپ نے وہ مان لیا، تم جیتی ہم ہارے لیکن اب بس کر دو۔ تم اس دنیا میں اپنے وجود کیساتھ اپنا حق لے کر آئی ہو جسے کوئی نہیں جھٹلا سکتا اور اگر کوئی تم سے کسی بھی قسم کی زیادتی کرے تو اس کے لئے قانون موجود ہے، قانون تمہارا حق تمہیں دلوائے گا۔ تم ہمیں بہت پیاری ہو، ہماری عزت ہو، تم کمزور نہیں بلکہ بہت طاقتور ہو، ہماری نسلوں کی امین ہو، تم ہمارا وقار ہو، ہمیں تم سے یا تمہارا حق دینے سے ڈر نہیں لگتا بلکہ ڈر ان نعروں سے لگتا ہے جو تم بنا کے لے آئی ہو اور پھر ہمارے اوپر ان کے تجربے کرتی پھر رہی ہو لیکن نا جی کون سنے، کون سمجھے، واہ رے مولا تو نے کیا مخلوق بنائی ”دہائی ہے دہائی۔ محبت پہ آئے تو بیٹے کی محبت میں بہو کے پیر باندھ دے اور عداوت پہ آئے تو شوہر سے دشمنی نبھانے کے چکر میں بھائی کا بھی کباڑہ کروا دے۔ ارے بیویوں سمجھتی کیوں نہیں ہو…. شوہر تو ایک ہوتا ہے قابو آجائے گا لیکن اس کے چکر میں اپنے بھائیوں کی زندگی تو مشکل میں نہ ڈالو۔ ایک اور دوست بولا کل اپنی بہن سے بات کی تھی کہ میری بہن اگر تم اپنے شوہر کو کھانا گرم کر کے نہیں دینا چاہتی تو نا دو لیکن مجھ پر تو احسان کرو۔بہت سمجھایا کہ تمھارے شوہر کو سیدھا کرنا ہے تو کسی بہانے اس کو ایسی پھینٹی لگواؤں گا کہ کھانا گرم کروانا تو دور وہ ساری عمر کھانا پکوائے گا بھی نہیں لیکن کیا بہنوں کے فرائض ادا کرنا ہم بھائیوں پر ہی فرض ہیں, تم بھی تو بہن ہونے کا حق ادا کرو، اپنی ذاتی دشمنی میں ہمارا کباڑہ نہ کرو۔ ارے خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے، تمھارا اپنے شوہر سے خون کا رشتہ نہیں جس کی تکلیف سے تمھیں تکلیف ہو لیکن میری بہن میں تو تیرا ماں جایا ہوں، میرا احساس ہی کرلو اور اس “عورت آزادی مارچ” سے بیزاری کا اظہار کرو اس میں شریک ہو کر اس بے غیرتی مارچ کو کامیاب نہ کرو بلکہ اوروں کو بھی سمجھاؤ- بس جی بہن لے آئی آنکھوں میں آنسو، بولی کیسا بھائی ہے تو، تجھے اپنی پڑی ہے بہن کا احساس ہی نہیں۔ ارے اس ناسمجھ کو ایک دو تھپڑوں سے کیا اثر ہوگا، اس کو دبا کر اپنے قدموں میں رکھنے کو اس کی رسی کھینچنے کے لئے یہ مارچ کرنا ہی پڑے گا۔ میں منمنایا….. دیکھو تیری بھابھی بھی چلی جائے گی “عورت آزادی مارچ میں، تم نہیں جاؤ گی تو اسے بھی روک سکوں گا۔ سمجھنے کی کوشش کرو اسے “عورت آزادی مارچ” نہیں وٹے سٹے کی شادی ہی سمجھ لو، تمہیں دیکھ کہ میری بیوی بھی بغاوت پہ اتر آئے گی لیکن وہ نہیں مانی، ارے نند بھاوج دشمنی کے ازلی رشتے کو بھلا کر یہ ساری ناسمجھ “عورت آزادی مارچ” کیلئے ایک ہوگئیں ہیں۔ ربا تو ہی بتا کہا جائیں تیرے بنائے یہ بے گناہ مرد، ایک اور دوست مسکرایا اور بولا ہاہ ہاہ ہاہ شوہر بھی پہلے مرد ہوا کرتا تھا اور پھر اس کی شادی ہوگئی۔ سنو بیویوں… ! اب “عورت آزادی مارچ” پہ جا ہی رہی ہو تو خدارا نعروں پہ ہاتھ ہولا رکھنا، باقی خدا محافظ تمہارا اور ہمارا بھی..!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں