میرے اثاثے..میری مرضی..

حالیہ جمع کرائے اثاثوں کی تفصیلات میں جو مزاحیہ گوشوارے داخل کئے جارہے ہیں،ان کو بنیاد بنا کر کچھ شر پسند عناصرنے بھولے سیاستدانوں کو نشانے پر رکھ لیا ہے۔۔
خدا کا خوف کرو بھائی، بے چارے کسی سیاستدان نے اگر 100 تولہ سونا پچاس سال پہلے صرف 6 لاکھ کا خریدلیا، تو وہ رسید بھی تو پرانی چھ لاکھ والی ہی جمع کرائے گا نا؟ سونے کی حالیہ قیمت سے اس کا کیا تعلق؟
خوامخواہ لوگ قانون پڑھے بغیرشور مچانے لگتے ہیں۔۔
اوریہ بھی آنکھیں بند کرکے یقین کرو یہ سونا اس نے پچاس سال پہلے خریدا ہوگا، بعد میں ان پورے پچاس سالوں کے دوران تو اس نے ایک انگوٹھی تک نہیں خریدی، جس کی تازہ رسید وہ بے چارہ جمع کراتا۔۔
نہ اس نے ان پچاس سالوں میں بیوی کو مزید کوئی جھمکا تحفے میں دیا،نہ بچیوں کو بالیاں خرید کردیں ۔۔ اور اس نے بہو، بیٹیوں ، بھانجیوں اور بھتیجیوں کو بھی سونے کا باریک تار تک گفٹ نہ کیا۔۔قانون پڑھ کر بات کیا کرو یار۔۔

کیسے لوگ ہو تم کہ آئین اورقانون جانے اور پڑھے بغیر سیاستدانوں کے خلاف بکواس شروع کردیتے ہو؟
اب سوچو ایک سیاستدان کے نواسے کے نام کلفٹن میں اگر30 لاکھ مالیت کا دو ہزار گز بنگلہ ہے تو تمہیں کیا تکلیف ہےَ؟ بنگلہ انچاس سال پہلے تیس لاکھ روپے کا ہی تھا، اور قاعدے قانون کے مطابق اس کی تیس لاکھ والی رسید ہی جمع کرادی۔۔بات ختم ۔۔بلاوجہ شور مچا رہے ہو؟
ہیں کیا کہا؟ زرا زور سے بولو۔۔
اچھا تو تم یہ کہہ رہے ہو کہ 2013 کے بعد کلفٹن کے اس بنگلے کے اطراف کے بیس بنگلے جو خریدے گئے وہ انتخابی گوشواروں میں کیوں ظاہر نہیں کئے گئے؟
یار کچھ تو خدا کا خوف کرو، کچھ تو شرم کرو، وہ بیس بنگلے کوئی اپنے نام سے تھوڑی خریدے گئے تھے، جو اپنے گوشواروں میں انھیں ظاہر کیا جاتا، کچھ تو قانون کی سمجھ پیدا کرو یار۔۔
اور یہ کیا الزام لگایا کہ وہ بنگلے دھونس دھمکی سے خریدے گئے تھے؟کوئی ایک ایف آئی آر تو دکھا دو؟
اور ایک صاحب کو دیکھو بلاوجہ شور مچا رہے ہیں،کہ ایک سیاستدان نے چھ شوگر ملوں میں اپنے بے نام شیئرز کو انتخابی گوشواروں میں ظاہر ہی نہیں کیا؟
یار کبھی تو عقل کی بات کرلیا کرو، جب وہ شیئرز اس نے اپنے نام پر ہی نہیں رکھے تو انھیں ظاہر ہی کیوں کرے گا؟ بات قانون کی ہے، تم لوگ سمجھتے ہی نہیں۔۔
اور بنے میاں کو دیکھو ۔۔ فرما رہے ہیں کہ ایک سیاستدان نے آٹھ ہزارایکڑ زمین کی ملکیت ظاہر کرنے کے بجائے یہ ظاہر کیا ہے کہ اس نے یہ زمین کرائے پر لی ہوئی ہے؟
ارے تو اس نے صحیح تو ظاہر کیا ہے،،کرایہ نامہ تک تو الیکشن کمیشن میں جمع کرادیا ۔اب جان لو گے کیا؟خوامخواہ تمہیں تکلیف ہورہی ہے کہ کرایہ نامہ ایک ہاری کے نام ہے جو اس کا اپنا ہاری ہے اور وہ بے چارہ ہاری اصل میں آٹھ ہزار ایکڑ تو کیا، آٹھ گز زمین خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔۔
اور تم فیس بُکیئے!! تم فیس بک پر بہت بکواس کررہے ہو کہ ایک صنعتکار کے کارخانے کا سالانہ ٹرن اوور بتیس ارب روپے ہے تو منافع صرف بارہ کروڑ کیسے؟؟
یار کچھ تو عقل کرو کسی کارخانے کی آمدنی اور اخراجات کا ایک پیچیدہ حساب کتاب ہوتا ہے، معروف آڈٹ کمپنیز نے اس کی ایک ایک پائی کلیئر کی ہے، مشہور وکیل نے اس کے انکم ٹیکس کی رپورٹ جمع کرائی ہے، سب کچھ اوکے ہے، پکا کام کرنے کے بعد پیپر داخل کئے ہیں، تمہیں نجانے کیوں مرچیں لگ رہی ہیں۔۔قانون کا پتا نہیں تمہیں۔۔
اور تمہیں کیا پرابلم ہے کہ اگر کسی سیاستدان ٹھیکیدار نے اپنے ڈیڑھ ارب کے اثاثے ظاہر کرکے اس میں سے ایک ارب بیس کروڑ قرضہ ظاہر کردیا۔۔اور وہ قرضہ اس نے حاصل بھی اپنی ہی کمپنی سے ہی کیا،،تمہیں کیا تکلیف ہے جب ہر چیز کے پیپر پورے ہیں؟قانون کا کچھ پتا ہے؟؟
اور ایک انوکھے صاحب کو تو دیکھو ۔۔ فرماتے ہیں جب تک سیاستدانوں کے ان مزاحیہ گوشواروں کا فیصلہ نہ ہوجائے عدالت الیکشن روک دے۔۔اورسب سیاستدانوں کو انجام تک پہنچا کر صاف شفاف کردار کے لوگوں کو انتخاب میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا جائے۔۔

یار !! ان صاحب نے یہ مطالبہ کرکے تو حد ہی کردی ہے۔۔ان کو تو قانون کا ایک لفظ نہیں پتا۔۔جب ہر چیز آئین اور قانون کے مطابق ہورہی ہو تو بیچ میں گند ڈالنے کی کیا ضرورت ہے؟
یہ صاحب تو جمہوریت کے دشمن معلوم ہوتے ہیں۔بھائی خدا کا خوف کرو آئین اور قانون کے مطابق یہ الیکشن ہونے دو،ان سب لوگوں کو انتخاب لڑنے دو۔۔انشاللہ آہستہ آہستہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔اپنی یہ بیکار کی زبانیں بند کرلو۔۔جمہوریت سب ٹھیک کردے گی۔تم نے سنا نہیں،جمہوریت ایک چھلنی ہے جس میں چھن کربتدریج سب اچھا ہوجاتا ہے۔ بدترین جمہوریت بھی بہترین آمریت سے لاکھ درجہ بہتر ہےْْ اور ہاں وہ تو رہ ہی گیا۔۔ کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔۔
جمہوریت آنے دو پھر راج کرے گی خلق خدا۔۔
..
شعیب واجد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں