آصف زرداری آدھے پیسے دینے کو تیار..؟؟

سندھ کے عوام گزشتہ دس سالوں سے ایک ہی بات سوچ رہے ہیں..اور وہ یہ کہ سندھ کے ترقیاتی بجٹ اور این ایف سی ایوارڈ کے سالانہ تین سے چار کھرب روپے کہاں جاتے ہیں.. اور جاتے ہیں تو ، لوٹ کے بدھو کی طرح گھر کیوں نہیں آتے..
اس سوال کا جواب مائی کمپیوٹر کچھ اس طرح دیتا ہے کہ تمام پیسہ صوبے کی ترقی پر خرچ ہوچکا ہے جس کے تمام ثبوت کاغذات میں بھی موجود ہیں..لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ بنوائے گئے پکے کاغذات، کو بھی اب کوئی ثبوت ماننے کو تیار ہی نہیں ہے۔۔
کاغزات کی خانہ پری کی اب کیا حیثیت رہ گئی ہے یہ جاننے کیلئے کچھ دیر کیلئے سندھ سے سعودی عرب چلتے ہیں.. جہاں حکومت نے سو شہزادوں کو گرفتار کیا.. اور ان پر کرپشن کا الزام لگا کر اربوں ڈالر فوری واپس کرنے کا کہا.. شہزادوں نے تمام کاغذات پیش کردیئے کہ ہمارے پاس تو ایک ایک رسید موجود ہے.. لیکن سعودی حکومت نے کہا کہ ہم جانتے ہیں آپ نے پکا کام کیا ہے, لیکن کرپشن تو بہرحال ہوئی ہے ,اور کرپشن آپ نے کی ہے لہذا وہ تمام پیسہ ریاستِ سعودیہ کو واپس چاہیئے.. نازو نعم میں پلے اِن گرفتار شہزادوں کو ریاض کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں قید کیا گیا تھا, لیکن ایک مہینے میں ان شہزادوں کی چِیں بول گئی ، یعنی ہمت جواب دے گئی.. اور ان بے وقوفوں نے اپنی ہیرا پھیری تسلیم کرلی اور رہائی کے عوض اربوں ڈالر واپس کرنے کو تیار ہوگئے ..ہوں اس ہوٹل میں ہی تمام معاملات طے ہوتے گئے. اور شہزادے کرپشن کا پیسہ دے کر باری باری رہا ہوتے گئے,اس طرح دو تین ماہ میں سعودی حکومت. کو دسیوں ارب ریال کی وصولی ہوگئی.. جس کے بعد شہزادوں کو تنبیہ کرکے چھوڑ دیا گیا..
بدعنوانی کا پیسہ وصولی کی یہ کہانی دنیا بھر کے ان بدعنوان عناصرکیلئے تازہ ہوا کا جھونکا تھی جو پڑوسی ملک چین اور بعض دوسرے ممالک میں کرپشن کرنے والوں کو گولیوں سے اڑا دینے کاسوچ کر دہلے جاتے تھے۔اور انہیں ان دہلا دینے والی خبروں کے بیچ میں سعودی استائل کا حل زیادہ آسان اور مفاہمت والا لگنے لگا تھا۔
اور اب آتے ہیں مفاہمت کے بادشاہ، کی سرزمین سندھ میں ۔جہاں آج کل آصف زرداری اینڈ کمپنی اس وقت سخت متفکر دکھائی دے رہی ہے۔وجہ یہ ہے کہ یہاں سعودی عرب کرپشن پیسہ وصولی کا اسٹائل بالکل بھی لاگو نہیں ہوتا دکھائی دے رہا، اور ظالم حکومت کی جانب سے جیل بھرو تحریک کے زریعے پیسہ وصولی کی دھمکیاں ہی سنائی دے رہی ہیں۔۔
سندھ حکومت کے کئی شعلہ بیان وزرا آج کل مرکزی حکومتی دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے میدان میں آچکے ہیں لیکن انہیں بھی اب یہ اندازہ ہورہا ہے کہ اس بار ٹاک شوز میں ملک کے مسئلے طے نہیں ہوپارہے۔۔
نواز فیملی کی طرح زرداری فیملی کو بھی مشکل یہی درپیش ہے کہ اس وقت ملک میں طاقت کے تینوں مراکز دہشت گردی سے زیادہ کرپشن کے خلاف کارروائی پر کمربستہ دکھائی دے رہے ہیں..اور پاناما کیس کے بعد اب ان کی تمام توجہ سندھ پر مرکوز ہے۔اس سلسلے میں ایک ہزار جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات ہورہی ہیں جن کے زریعے اندازہ ہے کہ ایک ہزارارب روپیہ باہر منتقل کیا گیا۔
اب آتے ہیں اندر کی کہانی کی طرف۔۔زرائع کے حوالے سے کچھ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ سندھ کی، الزامات کا شکار، سب سے بڑی شخصیت نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ اگر حکومت عفو و در گزر سے کام لے اور ان کو اور ان کی فیملی کو کوئی راستہ دے تو وہ کوئی ایسا حل نکال سکتے ہیں جس کے زریعے کرپشن کا کچھ پیسہ حکومت کو واپس کردیا جائے لیکن اس بات کی ضمانت دی جائےکہ ان کے نام پر کوئی آنچ نہ آئے گی..اس طرح کی خبریں کچھ غیر رسمی گپ شپ کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔تاہم حکومت کو ایسی کوئی تجویز کسی زریعے سے ابھی تک روانہ نہیں کی گئی ہے..
بات وقت،وقت کی ،اور موڈ،موڈ کی ہوتی ہے۔
حکومت کا موڈ یہ نظر آرہا ہے کہ اس نے قانونی عمل کو آگے بڑھانا ہے کیونکہ کسی قسم کی ڈھیل، ڈیل یا این آر او, خود حکومت کی بدنامی اور تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔۔
آصف زرداری کے وکلا جعلی اکاؤنٹس کیس, منی لانڈرنگ اور اومنی گروپ کے حوالے سے کچھ تجاویز پر بھی غور کررہے ہیں تاہم وکلا کے حکومت سےمعاملات خراب ہونے اور روابط نہ ہونے کی وجہ سے کسی منصوبے کو عملی جامہ پہنانا ممکن نہیں ہوپارہا۔ وہ تجاویز یہ ہیں کہ انور مجید کی پلی بارگین ڈیل کا انتظام کچھ اس طرح کیا جائے کہ زرداری اور انور مجید سے مطلوب رقم پلی بارگین کی صورت میں ادا کی جائے, تاہم انور مجید کو آگے رکھا جائے اور ان کے ہی نام سے تمام رقم وصول کرکے آصف زرداری کی جان خلاصی کردی جائے..اس صورت میں قومی خزانے کو ایک کھرب روپے کی واپسی کا عندیہ بھی ظاہرکیا جارہا ہے۔تاہم دال پھر بھی گل نہیں رہی۔
اب کچھ لوگ یہ سوال بھی کریں گے کہ پچھلے دس سالوں میں کرپشن تو پندرہ سے بیس کھرب روپے کی ہوئی ہوگی۔ تو ایک کھرب واپسی تو اصل رقم کا صرف پانچ فیصد بنتی ہے؟
اس کا جواب مائی کمپیوٹر کچھ طرح دیتا ہے کہ آپ نےجلسوں میں جیالوں کی بریانی پر ٹوٹنے کی فوٹیجز تو دیکھی ہوں گی۔جس میں کارکنان بریانی جتنی لوٹتے ہیں۔اس سے ذیادہ گرا دیتے ہیں۔یہی حال کچھ ملک کی لوٹ مار کے دوران بھی ہوتا ہے۔اس لئے یہ اندازہ بھی لگایا جاتا ہے کہ ایک کھرب روپے کی رقم پانچ کے بجائے ، ان کی دولت کا پچاس فیصد بنتی ہے۔
یہاں ایک دلچسپ بات یاد آگئی، دو ہزار تیرہ میں نیب نے پاکستان اسٹیل ملز کی تباہی کی جو رپورٹ عدالت میں پیش کی تھی، اس میں بھی یہی بتایا گیا تھا، کہ اسٹیل ملز میں دو ہزاردس سے دو ہزار تیرہ کے دوران کرپشن آٹھ ارب روپے کی ہوئی، لیکن بدانتظامی اور نااہلی سے ادارے کو جو نقصان پہنچایا گیا وہ چوبیس ارب روپے کے برابر تھا۔یعنی جیالوں نے کھایا کم اور گرایا ذیادہ۔
سات جنوری کو زرداری فیملی کی بینکنگ عدالت میں دوبارہ پیشی ہے،ان کا نام ای سی ایل میں بھی ڈالا جاچکا ہے،نااہلی کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست بھی دائر ہوچکی ہے۔جبکہ سپریم کورٹ میں بھی جےآئی ٹی رپورٹ پر کارروائی کا آغاز ہوچکا ہے۔کہنا بس اتنا ہے کہ ماہ دسمبر کے گزرتے ہی رومانس کا مہینہ ختم ہوجائے گا۔
(شعیب واجد)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں