انسانی ذہانت کی معراج (معصوم رضوی)

دنیا اتنی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے کہ انسان وقت کی دوڑ کا ساتھ دینے سے قاصر ہے، زندگی سے مقابلہ بھی تو کرنا ہے، پیچھے رہ جانیکا خوف ہر دم دوڑنے پر مجبور رکھتا ہے۔ گھڑی کی ٹک ٹک کیساتھ ہانپتا کانپتا بندھا انسان وقت کے دھارے کیساتھ چلنے کی کوشش میں اپنا آپ کھو بیٹھتا ہے اور پھر ایک دن زندگی کا ساز آہستگی سے خاموش ہو جاتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور پرآسائش خواب کی تعبیر نے انسان کو مشین میں تبدیل کر ڈالا۔ خاندان کے اخراجات اور بہتر طرز زندگی کے تقاضے پورے کرنے کیلئے زیادہ کمانے کی دوڑ، معاشرے میں اہمیت کیلئے تعلقات، سماجی حلقوں اور تنظیموں میں شمولیت، سوشل میڈیا، فیس بک، واٹس ایپ، انسٹا گرام، کیا آپ جانتے ہیں کہ زندگی کے ان سب لوازمات پورا کرنے کے بعد اپنے خاندان اور اپنے لیئے وقت ہیں کہاں بچتا ہے؟ اسٹیفن ہاکنگ نے شاید ٹھیک ہی کہا ہے انسانیت کو سب سے بڑا خطرہ شاید انسانی تخلیقات ثابت ہونگی۔
کبھی کبھی سوچتا ہوں وہ بھی کیا دور تھا جب سب کے پاس وافر وقت ہوا کرتا تھا، عزیز و اقارب سے ملاقات ہوا کرتی تھی۔ بیماروں کی عیادت کی جاتی تھی، پڑوسیوں اور دوستوں کی محفلیں جما کرتی تھیں۔ اچھے برے وقت پر دوست احباب شانہ بشانہ کھڑے ہوا کرتے تھے، مصیبت کے اوقات عزیر تو بعد میں آتے تھے پڑوسی پہلے دروازے پر دستک دیا کرتے تھے۔ حضور اب صورتحال یہ ہے کہ سالگرہ کی مبارکباد، طبعیت کی ناسازی کی عیادت اور موت کی تعزیت بسا اوقات تو وقت کی قلت کے باعث ایموجیز سے کی جاتی ہے، تبادلہ خیال بھی فیس بک پر ہو جاتا ہے لہذا میل ملاقات زندگی سے غائب ہو گئیں۔ ہر انسان کا اعمال نامہ، پسند، ناپسند، فطرت سمیت تمام ظاہری اور باطنی ریکارڈ سوشل میڈیا کی دسترس میں ہے۔
ذرا ماضی میں جھانکیں، جنگ عظیم دوئم کے بعد دنیا نئے دور میں داخل ہوئی، 1916 سے 1946 میں زندگی گزارنے والی نسل نے آگ و خون کا پرآشوب دور جھیلا، معاشی مصائب کا صبر و حوصلے کیساتھ سامنا کیا۔ 46 سے 65 تک کی نسل کو کچھ بہتر ماحول ملا، معاشی ترقی اور روزگار کے وسیع مواقع، تہذیب، اخلاق وضعداری خاندان کی پہچان تھی۔ اس دور میں پیدا ہونیوالی نسل معاشی انقلاب کے باعث خوشحال نظر آتی ہے، سادگی، قناعت، معاشرتی اقدار، پرسکون ماحول، روزگار اور تعلیم کے بہتر مواقع بھی دستیاب ہیں۔ 65 سے 84 کے دور میں پیدا ہونیوالی نسل تیز رفتار، بے چین، مسابقت، مصنوعی طرز زندگی اور آسائشات کے حصول میں سبقت کا شکار نظر آتی ہے۔ اس دور سے جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد بھی پڑتی ہے، انٹرنیٹ، موبائل فون، وی سی آر سامنے آئے، ویسے اس نسل کو جنریشن ایکس کہا جاتا ہے، مشترکہ خاندانی نظام میں گراوٹ، اخلاقیات اور وضعداری کی روایات سے بغاوت، خود پسندی اور وجودیت کا امتزاج اور بنیادی معاشرتی اقدار سے دوری نظر آتی ہے۔ پھر آتا ہے 1985 سے 2000 کا دور، اس عرصے میں وجود میں آنیوالی نسل کو جنریشن وائی کہا جاتا ہے، یہ نسل جدید ٹیکنالوجی میں پروان چڑھی،کیبل ٹی وی، کمپیوٹر گیمز، سوشل میڈیا، برانڈڈ اشیا، بہترین کاریں، اسٹائلش زندگی کی دلدادہ، معلومات کے بیش بہا خزانے کی مالک، پراعتماد، پرجوش مگریہاں تک آتے آتے معاشرہ، سماج، معیار، اخلاقیات، وضعداری، تہذیب و تمدن سب کچھ اتنا تبدیل ہو چکا ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ اب رہی 2000 کے بعد پیدا ہونیوالی نسل تو اس بارے میں فیصلہ شاید اب سے بیس سال بعد کیا جا سکے گا۔
جنریشن ایکس نے سب کچھ تبدیل ہوتا دیکھا، وہ جو نظر آتا ہے اور جو نظر نہیں آتا، میرا مطلب ہے کہ محکمہ ڈاک سے بھیجے جانیوالے خط سے لیکر، ٹیلی گرام، تار، انٹرنیٹ میل اور فیس بک/واٹس ایپ تک کا سفر، مگر ساتھ ہی معاشرتی اقدار، رویے، معیار، اخلاقیات، وضعداری کے تمام اصول و ضوابط بھی تبدیل ہوتے دیکھے۔ خاندانی نظام کی شکست و ریخت، تفرقہ بازی، سماجی درجہ بندی، منافقت و منافرت کوپھلتے پھولتے دیکھا۔ اس جنریشن کو دنیا کی ہیئت و ساخت کو تبدیل کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے، ڈیزل کے انجن سے ہائی فائی فائی بلٹ ٹرین، بلیک اینڈ وہائٹ کیمروں سے ایچ ڈی تصاویر اور تھری ڈی فلموں تک، ریڈیو سے ایف ایم تک، ٹیپ ریکارڈر سے یوایس بی تک، عظیم الجثہ کمپیوٹرز سے چپ تک، فلوپی سے ٹیرا بائٹس ہارڈ ڈرائیو تک، اور اب یہ تمام ایجادات کو جدید ٹچ اسکرین موبائل فون کے کوزے میں بند ہونے تک کا سفر اس نسل کا اثاثہ ہے۔ مگر ایسا نہیں کہ سب کچھ اچھا ہی رہا، دنیا کی کڑوی کسیلی تبدیلیاں بھی منظر نامے کا حصہ ہیں، امریکہ اور روس کی سرد جنگ، روس کے ٹکڑے ہونے کیساتھ عالمی طاقت کا توازن تبدیل، کمیونزم اور سوشلزم کو دم توڑتے اور سرمایہ دارانہ نظام کا عروج دیکھا۔ 9/11 کے بعد دنیا کو نیا رنگ بدلتے دیکھا، پہلے عراق پھر افغانستان اور اب شام میں مفادات کی جنگ، القاعدہ، طالبان، داعش، دہماکے، خونریزی کی ہولناک داستانیں، دہشتگردی، تعصب اور قوم پرستی کے بونوں کو دیو بنتے دیکھا۔ اس نسل نے دنیا کو گلوبل وارمنگ کا جہنم بنتے اور گلیشیرز کے پگھلنے کا منظر دیکھا، خوراک کی بڑھتی ضروریات کیلئے کیمیائی استعمال اور نت نئی بیماریاں اور جدید طریقہ علاج، دنیا میں پانی کی قلت کا خدشہ اور بہت کچھ بھی اسی نسل کا حصہ ہے۔
انسانی ارتقا کا سفر جانے کب سے نسل در نسل جاری ہے، جانیوالی نسل ذھانت اور فطرت کے اثاثے نئی نسل کو منتقل کرتی جاتی ہے، مگر یہ سفر اس طرح کب تک جاری رہ سکے گا یہ ایک بڑا سوال ہے۔ Artifical Intelligence یا مصنوعی ذھانت اور روبوٹک سائنس انسانی نسل کیلئے کتنا بڑا خطرہ ثابت ہونگے؟ شاید یہ معاملہ آپ کو کسی فکشن کا حصہ لگے مگر یہ ایک ٹھوس حقیقت کا روپ دھارتا جا رہا ہے۔ مصنوعی ماحول، مصنوعی بارش، مصنوعی اجناس اور مصنوعی انسانی اعضا کے بعد یہ تجربات غیر انسانی رخ اختیار کر چکے ہیں شائد انسان کی جگہ روبوٹ اور مصنوعی ذھانت مستقبل میں دنیا کا سب سے بڑا بحران ثابت ہو گا۔ مغرب میں ڈرائیور کے بغیر کار کا تجربہ تو ہو ہی چکا ہے، امریکہ میں ایسی لیگل ایپ وجود میں آ چکی ہے جو مشکل سے مشکل قانونی مسئلے کو مستند حل فوری مہیا کرتی ہے۔ جدید روبوٹس پر کام ہو رہا ہے جو غلطی کے بغیر کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انسانی ضروریات سے مبرا ہیں۔ مغرب اور چین مصنوعی ذھانت پر گزشتہ پچاس سال سے کام کر رہے ہیں اور اب کامیاب ہو چکے ہیں۔ چین نے ٹائپ 59 ٹینک بنائے ہیں جو جنگ میں کسی انسان کے بغیر مصنوعی ذھانت کے تحت حصہ لے سکیں گے۔ کمپیوٹر شاید مصنوعی ذھانت کی پہلی کڑی ہے، گوگل سے لیکر بیدو تک ہر کوئی مصنوعی ذھانت کو کاروباری شکل میں فروغ دے رہے ہیں، چین سے لیکر امریکہ تک تحقیق و تجربات حتمی مراحل میں ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ کمپیوٹر کی بنیاد انسانی نیورونز اور عصبی اشاروں پر مبنی ہے۔ امریکی کمپنی Geomatric Science بچوں کے سیکھنے کے عمل کی بنیاد پر ادراکی سائنس (Cognitive Science) کے تحت مصنوعی ذھانت کے کامیاب تجربات کر چکی ہے۔ گوگل، فیس بک، انسٹا گرام اور دیگر بڑی کمپنیاں انسانی ربط و تعلق پیدا کرنے کیلیئے مصنوعی ذھانت کو استعمال کر رہی ہیں، ایسی بہت سی چھوٹی چھوٹی باتیں آج ہماری زندگی میں معمول کا حصہ ہیں جہاں کمپیوٹر اپنی ذھانت سے ہمارے مسائل چٹکی میں حل کر دیتا ہے۔
انسان کی تخلیق کردہ مصنوعی ذھانت شعوری اور غیر شعوری حرکات، محسوسات، معلومات اور مہارت کا لامحدود خزانہ ثابت ہو سکتی ہے، انجینرنگ، طب، قانون، تاریخ، جغرافیہ، مواصلات، لسانیات، اور انسانی قابلیت سے اخذ کردہ ذھانت سے زمین و آسمان کے درمیان موجود ہر شے کی احاطہ کرنے کی صلاحیت کی حامل ہو سکتی ہے مگر کیا محبت، ایثار، رحم، احسان، خلوص، ممتا، شفقت، روحانیات ، بندگی اور قربانی کے جذبات رکھ سکے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا مصنوعی ذھانت مجموعی طور پر انسانی ذھانت کی محتاج رہیگی یا اسے نگل جائیگی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں