گل ودھ گئی اے مختاریہ (مرزا شجاع بیگ)

20 ستمبر 2020 کو اسلام آباد میں ہونے والی اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس نے ملکی سیاست میں ایک بھونچال کی سی کیفیت برپا کر دی ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی میزبانی میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں نے بھرپور شرکت کی اس کانفرنس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں بہت سے مطالبات کے ساتھ ساتھ وزیراعظم عمران خان سے فوری استعفے کا مطالبہ بھی کیا گیا اور اس کے ساتھ پورے ملک میں احتجاجی تحریک کے آغاز کا اعلان بھی کر دیا گیا.
گزشتہ دو برس میں اس حکومت کے خلاف ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں اس سے پہلے بھی بہت سی آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کرچکی ہیں لیکن یہ کانفرنس اس لحاظ سے بھی بہت اہمیت کی حامل رہی کہ اس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما میاں محمد نواز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا ان دونوں رہنماؤں نے اپنے خطاب میں پاکستان کے جمہوری نظام پر بہت سے سوالات اٹھائے ہیں جو کہ تمام پاکستانیوں کے لیے باعث تشویش ہیں اس کانفرنس کے فوراً بعد اپوزیشن رہنماوں اعلیٰ عسکری حکام کے درمیان گذشتہ عرصے میں ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیل کو بریکنگ نیوز بنا بنا کر پیش کرنے کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہو گیا ہےاس کے ساتھ ساتھ حکومتی وزراء اور مشیران کا اپوزیشن رہنماؤں کی کردار کشی کا ایک لا محدود اور نہ رکنے والا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے اور تو اور گزشتہ دو برس میں جو کام نہ ہو سکا وہ بھی کرنے کی کوشش شروع کر دی گئی ہے یعنی جمیعت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان کو بھی نیب میں پیشی کے لیے نوٹس موصول ہو چکا ہے، حکومتی وزراء اور مشیران دن رات یہ بتانے میں مصروف عمل ہیں کہ اس آل پارٹیز کانفرنس اور اس کے اعلامیہ کا موجودہ حکومت پر کوئی سیاسی اثر نہیں پڑے گا جبکہ پاکستانی قوم دیکھ رہی ہے کہ بات اب اتنی سادہ اور عام فہم نہیں رہی کہ جیسا کہ تمام حکومتی وزراء اور مشیران بیان فرما رہے ہیں بلکہ بقول سینئر صحافی حامد میر کہ” گل ودھ گئی اے مختاریہ” .
تمام پاکستانی قوم اور حکومتی مقتدر حلقے بھی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر اپوزیشن نے اس وقت احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا تو پاکستان کا سیاسی موسم اور موجودہ آب و ہوا بھی اس تحریک کے لیے سازگار اور معاون ثابت ہونگے کیونکہ موجودہ حکومت کے گزشتہ دو برس تحریک کے لیے بھرپور ایندھن فراہم کریں گے، مہنگائی کا طوفان، بے روزگاری، بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ، آٹا چینی اور پیٹرولیم مصنوعات میں تیزی سے اضافہ، دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ لاقانونیت اور احتساب کا نظام جس کے نام پر ذاتی دشمنی اور سیاسی مخالفین کو نشانہ بنایا جارہا ہے یہ تمام وہ عناصر ہیں جس نے اس تحریک کو جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیلا دینا ہے اپوزیشن نے صرف اس تحریک کو شروع کرنا ہے موجودہ حکومت کی کارکردگی اور نالائق وزراء اور مشیران کے طرز عمل اور بیانات کی بدولت یہ تحریک بہت جلد پاکستان کے تمام شہروں دیہاتوں اور گلی کوچوں میں پھیل جائے گی اور اسے روکنا موجودہ حکومت کے بس میں تو بالکل بھی نظر نہیں آ رہا، اس لیے پاکستان کے تمام مقتدر حلقوں کو سنجیدگی کے ساتھ پاکستان میں جاری سیاسی افراتفری اور اس نظام پر اٹھائے گئے اپوزیشن رہنماؤں کے سنجیدہ سوالات کا جائزہ لینا چاہیے اور پاکستان کے سیاسی نظام کو ان تمام رکاوٹوں اور پیچیدگیوں سے پاک کرنا چاہیے کیونکہ اگر کوئی ایک سیاسی جماعت بھی اگر یہ مطالبہ کر رہی ہوتی تو شاید ہم اسے صحیج نہ سمجھتے کہ ان کے مطالبات شاید غلط ہو سکتے ہیں لیکن جب ملک کی تمام اپوزیشن پارٹیاں بالخصوص تین بڑی سیاسی پارٹیاں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ نواز اور جمیعت علماء اسلام جن کا اس ملک کے سیاسی نظام میں اپنا ایک مقام ہے اس ملک کے جمہوری اور سیاسی جدوجہد میں ان کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں جب یہ تمام سیاسی پارٹیاں اس نظام کے متعلق بات کر رہی ہیں تو ضرور ان کی باتوں کو اہمیت دی جانی چاہیے اور اس نظام میں موجود خرابیوں کے سدباب کے لیے سب کو مل جل کر ایک لائحہ عمل ترتیب دینا چاہیے کیونکہ اسی میں سب کی بہتری اور پاکستان کا مفاد ہے آج کی اپوزیشن کل کی حکومت اور آج کی حکومت کل کی اپوزیشن بھی ہوسکتی ہے جس طرح اس موجودہ حکومت کے وزراء اور مشیران تمام سیاسی صورتحال کی تصویر کشی کر رہے ہیں یہ بات اب اس سے بہت آگے نکل چکی ہے یعنی۔۔۔۔گل ودھ گئی اے مختاریہ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں