ستمبر کی شام اور قلندر لڑکی ( رومیصہ ملک-کراچی )

ستمبر کی شامیں اور خزاں کا موسم اس کو بہت پسند تھیں۔ ستمبر کی شام میں پارک کی بلکل کونے والی بینچ پر بیٹھنا انتہائی اس کو اچھا لگتا تھا ۔ ستمبر کے معتدل موسم میں پارک کے اس کونے والی بینچ پر بیٹھ کر مسکراتے لوگوں کو خاموشی سے تکتے رہنا اور ان کی ہنسی ، قہقہوں اور مسکراہٹوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہنا ، بچوں کی اٹھکیلیاں اور پارک میں آنے والی خواتین کی چہچہاتی آوازیں سننا اس کی پسندیدہ مشغلوں میں سے تھا۔ ان سب سے الگ چیز یہ کہ کونے والی اس بینچ پر بیٹھ کر سوچتے رہنا اس کو بہت اچھا لگتا تھا۔
لیکن ا س کی سوچ کا محور کون تھا؟؟
وہ خو د بھی نہیں جانتی تھی یا شاید جاننا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔!
اس کی خزاں آلود آنکھیں ہر سال آتے ستمبر کا بے چینی سے انتظار کرتیں اور دل جاتے ستمبر کو الوداع کرتا ۔۔
لیکن اس سال اُ س نے نہ ہی آتے ستمبر کو خوش آمدید کہا اور نہ ہی جاتے ستمبر کو الوداع ۔۔!
آج ستمبر کی آخری شام تھی ۔۔ اس کا دل گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بوجھل اور آنکھیں نم ہوتی جارہی تھیں۔
آخری شام گزرنے میں کچھ لمحے ابھی باقی تھے ، اس کا جسم برف کی سیل جیسا ٹھنڈا ہوتا جارہا تھا اور گالوں پر اشکوں کی ایک روانی تھی ، جو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
ہاں! ستمبر کی آخری شام میں بولے جانے والے الفاظ اس کے ذہن کے پارک کے کسی کونے سے دبے پاؤں اٹھ آتے اور اس کو کچھ یاد دلانے کی کوشش کرتے تھے کہ وہ ہر شام بھیڑ سے بھرپور اس پارک میں ہمیشہ سے تنہا کیوں ہوتی ہے ؟ اس کی سوچ کا محور کون ہے ؟ کیوں گزشتہ تین برسوں سے وہ ستمبر کو خوش آمدید نہیں کہہ پاتی ؟ کیوں اس کو یاد نہیں رہتا کہ ظالم ستمبر کو الوداع بھی کہنا ہے۔۔ کیوں وہ آخری شام میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس بینچ پر نم اور بوجھل آنکھوں سے شام کے گزر جانے کا انتظار کیا کرتی ہے؟ کیوں و ہ گزرتی شام کے آخری لمحے میں خزاں کے موسم میں گرتے ہوئے زرد پتوں کی مانند بکھر جاتی تھی۔
ہاں اسے یاد تھی ستمبر کی وہ پہلی شام جب “شاہ ” نے پارک کے کونے میں پڑی اس بینچ بیٹھ کر اس کا ہاتھ تھاماتھا اور اپنی سب سے قیمتی چیز “دل ” اس کے نام کیا تھا ۔ ہاں یاد تھا اس کو، وہ مسکراتے ہوئے لب اور نم آنکھوں سے اپنی زندگی کو “شاہ” کے نام کرنا ۔ اور ہاں اس کو یاد تھا سب کچھ، بلکل کسی فلم کے مناظر کی طرح۔یہ سب یاد کرتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی ، اور پھر اچانک اسے شام کی آخری اذان کی آواز سنائی دی اور مسکراتے لب یک بہ یہ ٹھہر سے گئے اوراسے تین برس پہلے کی ستمبر کی آخری شام یاد آئی جب اسی بینچ پر شاہ نے اس کو الوداع کہا تھا ۔ اس کو “شاہ” کے آخری الفاظ یاد تھے، اس نے اپنے من چاہے شخص کی زبان سے اپنا نام آخری بار سنا تھا۔اس کو یاد ہے آخری بار اس کے منہ سے ” جانِ شاہ ” سننا ۔ وہ اسے ہمیشہ ” جانِ شاہ ” کہتا تھا ۔جسے سن کر وہ ہمیشہ کسی گلاب کے مانند کِھل سی جاتی تھی ۔ لیکن آج “جان ِ شاہ” سننا اس کے لئے کسی کرب سے کم نہ تھا ۔یاد تھا اسے “رُو” وہ اس کو کہتا تھا، “تم ہمیشہ شاہ کے دل میں رہو گی تم ہمیشہ “جان ِشاہ” رہوگی ۔لیکن میں سب کا مقابلہ کرتے کرتے تھک گیا ہوں، میں ہار گیا ہوں رُو ، میں محبت کا پاس نہیں رکھ سکا ۔ مجھے معاف کردینا میری ” رُو”۔
وہ بھی بہت کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن اپنے سامنے ایک بہادر و نڈر انسان کو یوں ہارتا دیکھ کر کچھ نہ کہہ سکی ۔ہاں وہ اس کو روکنا چاہتی تھی ہمیشہ کے لئے ، اس کے ہاتھ تھامنا چاہتی تھی لیکن وہ سب بس خیال تھا ۔ وہ اٹھا اور کبھی نہ پلٹ کے آنے کے لئے چل دیا ۔جاتے شخص کا اٹھتا ہر قدم اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ کم کرتا جارہا تھا اور وہ زندہ تو تھی ، مگر مرچکی تھی ۔
آہ۔۔!ستمبر کی آخری شام میں وہ خزاں کے پتوں کی طرح بکھرتی جارہی تھی ،اندھیرا بڑھتے بڑھتے اس کی آنکھیں بھی بند ہوتی جارہی تھیں ، ہاں وہ شخص دور جارہا تھا ، اس کی شبیہ بھی اب دھندلی ہوتی جارہی تھی ، نہیں وہ جا چکا تھا ۔
اتنے میں اسےقریب سے سیٹی کی آوازآئی اور پارک کے گارڈ کی آواز اس کو حال میں واپس لے آئی۔
” میڈم پارک خالی ہوچکا ہے ، آپ کو بھی جانا چاہیئے ۔”
وہ اٹھی بوجھل قدم اٹھاتی اور ایک بار پھر عہد کرتی کہ اب وہ دوبارہ اس پارک میں نہیں آئے گی ۔ لیکن شاید وہ پھر آئے گی اور بار بار آئے گی۔ ستمبر کی آخری شام گزارنے ۔ کیونکہ وہ گزشتہ تین برسوں سے اس پارک میں نہ آنے کا خود سے عہد کر چکی تھی ۔وہ آئے گی ، وہ پلٹی اور بینچ کو دیکھتے ہوئے خود سے بولی میں پھر آؤں گی ، جیسے وہ بینچ بھی اس کا منتظر ہو کہ کوئی ستمبر کی آخری شام اس کے ساتھ گزارے اور یہ بینچ بھی اس کا منتظر ہو گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں