علی رضا عابدی کا قتل..نئے خدشات..

حالات کو سمجھنے والے بہت سے لوگ اتوار کو ہونے والے واقعے کے بعد سے شدید تشویش میں مبتلا تھے.. اس واقعے میں اہم کیو ایم کے گڑھ گلبہار میں پی ایس پی کے کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا تھا.. اس واقعے میں دو کارکنوں کی ہلاکت ہوگئی تھی.. اس پر ردعمل دیتے ہوئے مصطفی کمال نے بھی کارکنوں کی جانب سے اشتعال کا خدشہ بھی ظاہر کیا تھا..
لیکن پی ایس پی کے کارکنوں کے قتل کے واقعے کو علی رضا عابدی کے قتل سے جوڑنا خاصا قبل اڑ وقت ہوگا..لیکن یہ دونوں واقعات کچھ خطرناک نوید بھی سنا رہے ہیں..
پی ایس پی کے کارکنوں کا جس علاقے میں قتل ہوا وہ علاقہ قتل و غارتگری کے حوالے سے پہلے بھی کافی متاثر رہا ہے یہ ایم کیو ایم کے حامیوں کا علاقہ ہے کھجی گراؤنڈ بھی یہیں واقع ہے جہاں سے بوری بند لاشوں کے سلسلے کا آغاز ہوا تھا.
علی رضا عابدی آج کل ایم کیو ایم سے علیحدگی اختیار کر چکے تھے.. ان کا شمار ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہیں اب بھی الطاف حسین کیلئے نرم گوشہ رکھنے والا مانا جاتا تھا ..جن دنوں ایم کیو ایم الطاف حسین سے اعلان لاتعلقی کا موقف اسٹیبلش کرنے میں مصروف تھی ان دنوں اسے علی رضا عابدی کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا تھا تاہم بعد میں وہ مصلحت سے کام لینے کی دلیل پر سرتسلیم خم کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کا حصہ بن گئے تھے تاہم وہاں جاکر انہیں اندازہ ہوا کہ ایم کیو ایم پاکستان الطاف حسین سے لاتعلقی کے اعلان پر سختی سے قائم ہے..
اس دوران ایم کیو ایم میں نئی دھڑے بندیاں بھی سامنے آئیں جس نے الیکشن میں ایم کیو ایم کی نیا ڈبو دی..یوں بہت رہنماؤں کو نظر آنے لگا تھا کہ یہاں اب کوئی خاص مستقبل نہیں رہا..
پاک سرزمین پارٹی یوں تو الیکشن میں کوئی کارنامہ نہیں دکھا سکی..لیکن اس کے پاس ایم کیو ایم سے ٹوٹ کر آنے والے کارکنان کی بہت بڑی تعداد موجود ہے ان میں اکثریت ان کارکنوں کی ہے جن پر سنگین مقدمات ہیں..
اس سارے پس منظر کو جاننے کے بعد مصطفی کمال کا اتوار کا وہ بیان بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے جس انہوں نے کہا تھا کہ الطاف حسین گلبہار میں ان کے کارکنان کے قتل کے ذمہ دار ہیں مصطفی کمال نے یہ بھی بتایا کہ انہیں ایک ریکارڈنگ سنوائی گئی سے ثابت ہوتا تھا کہ اس سے قبل اورنگی ٹاؤن میں پی ایس پی کے کارکنوں کا قتل ایم کیو ایم جنوبی افریقہ نے براہ راست الطاف حسین کی ہدایت پر کیا تھا..
کراچی شہر ,ایم کیو ایم کے دھڑوں یعنی متحدہ اور ایم کیو ایم حقیقی کے درمیان خونی لڑائی کا بھی شاہد ہے جو دس سال جاری رہی تھی اور دونوں دھڑوں نے ایک دوسرے کے دو ہزار حامی قتل کئے تھے..
کراچی میں اب ایم کیو ایم کا کوئی بھی دھڑا ماضی جیسی قتل و غارت گری کی صلاحیت نہیں رکھتا.. لیکن وقفے وقفے سے ٹارگٹ کلنگ کا خطرہ اب بھی کم نہیں ہوا..
گلبہار میں پی ایس کارکنوں کو کس نے قتل کیا. یہ ابھی تک پتا نہیں چلا, علی رضا عابدی کو کس نے نشانہ بنایا ؟ یہ بھی ابھی ایک معمہ ہے.. لیکن اس صورتحال میں آگے مزید خرابی کے آثار ضرور نظر آرہے ہیں.. اور عوام کو خدشہ ہے کہ شہر میں ٹارگٹ کلنگ کا سوئچ اس بار کسی نئے زاویئے سے آن ہوسکتا ہے..

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں