سیمیناربیاد اکبرالہ آبادی (خالد دانش)

یاران نمکدان کے زیر اہتمام جمعہ کی شام کو سمینار بعنوان بیاد اکبرالہ آبادی منعقد کیا گیا،،عملی، تحقیقی، تخلیقی اور بے مثل سیمینار کے انعقاد پر ڈاکٹر ساجدہ سلطانہ، اصغر خان، مہر جمالی، منیف اشعر ملیع آبادی، سخاوت علی اور دیگر عہدے داران مبارکباد کے مستحق ہیں۔۔۔
صدر مجلس۔۔ جناب محمود شام صاحب کا لطیف انداز بیاں گویا اکبر الہ ابادی سے متعلق انکا گہرا مطالعہ اور ہر ہر لفظ اک روشن لکیر کے مترادف ٹہرا۔اکبر الہ ابادی پر محمود شام صاحب کی لب کشائی یوں محسوس ہوا کہ علم کا بیکراں سمندر امنڈ آیا ہو۔۔ہر جملہ اثر انگیز جسے کتاب حیات میں رقم کرنا مجھے اچھا لگا۔۔۔ مہمان خصوصی۔۔اکرم کنجاہی صاحب نے جب سوز دروں کو چھیڑا اور اکبر الہ ابادی پر اپنی ماہرانہ اور تجرباتی گفتگو کا آغاز کیا تو راقم کو بلند قامت لگے،ادب سے انکا گہرا شغف،مطالعہ اور تحقیق قابل رشک ہے۔۔اپ نے اکبر الہ ابادی کی سوانح کو منفرد انداز میں بیان کر کے ثابت کر دیا کہ آپ علم کا سمندر خود میں سموئے ہوئے ہیں۔۔۔کلام و گفتار کا سحر سننے والوں پر گہرے اثرات مرتب کر گیا۔۔
یاد رکھئے۔۔۔جہاں دل لبھانے اور طنز و مزاح سے اصلاح معاشرے کا ذکر آتا ہے تو اکبر الہ ابادی اک روشن چراغ کی مثل نمایاں نظر آتے ہیں جو غزل،رباعی،قطعات اور متفرق اشعار پر مبنی اپنی طنز و مزاح اور سنجیدہ شاعری کو اس احسن اسلوب پر پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہر ہر حرف ساز و سوز میں ڈوبا لگتا ہے۔۔زبان کے چٹخارے،روایت لفظی کا اہتمام اور دور اذکار تشبیہات کا استعمال انہی کا طرہ امتیاز ہے۔۔مغربی تہذیب کی دھجیاں اڑانے والے،۔معاشرے میں پھیلی انارکی اور غلط رسموں کے خلاف قلم کو بصورت شمشیر اٹھانے والے،اپنے دور کی تحریکوں اور رحجانوں کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کرنے کی بدولت۔۔۔لسان العصر۔۔کہلانے والے اکبر الہ ابادی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔۔۔۔
اب بات کرتے ہیں اس بزم کو چار چاند لگانے والے حیدرآباد سے تشریف لائے ہمارے مہمان شاعر و انشائیہ نگار۔۔۔م۔۔ش۔۔عالم کی جو اس نشست کی نظامت پر مامور تھے۔۔۔انکی شعلہ بیانی سماعتوں کو بھلی لگی اور بزم کو سبک خرامی سے لیکر چلنا انکی علمی استعداد کا غماز تھا۔۔
انشائیہ پڑھنے والوں میں م۔ش۔عالم،ساجدہ سلطانہ،عامر بشیر،انور احمد علوی اور محمد اسلام صاحب کا نام قابل تعریف ہے۔۔ان حضرات نے بیاد اکبر الہ ابادی کے حوالے سے اپنے فن پارے پیش کئے اور بزم کو حسن و رعنائی عطا کی۔۔۔متعدر شعراء زیب النساء زیبی، آصف علی اصف،وقار زیدی،صغیر احمد جعفری،ڈاکٹر حمیرا خان،ریحانہ احسان، طاہرہ سلیم سوز ،قمر جہاں قمر نے اپنے کلام سماعتوں کی نذر کئے اور سننے والوں کو اسیر سلاسل کر دیا ۔۔۔۔مہمانان کی اک طویل فہرست ہے جو اس تقریب کی کامیابی پر دلیل ہے۔۔۔مجید رحمانی جیسی علمی شخصیات کا کسی بزم میں حاضر ہونا بلاشبہ خوش آئند بات ہے۔۔غزل گائیک ساجد علی خان کی شرکت اس بزم کی زیبا بڑھانے کا ذریعہ بنی،عارف شیخ عارف معروف شاعر اک گوہر نایاب،افضل ہزاروی ایک ہمہ جہت تخلیق کار،ھندکو اور اردو شاعری میں ممتاز۔۔سہیل احمد نظم کا مستند حوالہ،کامران مغل نوجوان نسل کی نمائندگی کا جسے شرف حاصل ہے اور ادب سے محبت جسکی رگ و پے میں دوڑتی ہے وہ کامران مغل ہی ہے۔۔حنیف عابد کا نام ادبی خدمات کے حوالے سے محتاج تعارف نہیں،نصیر الدین نصیر ادب اور ادب تخلیق کرنے والوں کی محبت میں گرفتار شاعر و ادیب جو ایک شریف نفس انسان ھےاس بزم میں شہرت یافتہ کہانی نویس محسن نقی کا موجود ہونا خوشی کی نوید ھے اور بے شمار قد آور شخصیات کی شرکت نے ثابت کر دیا کہ ساجدہ سلطانہ کا ادب سے اٹوٹ تعلق ھے اور ادبی شخصیات سے انکا مخلصانہ تعلق بھی ہے۔۔ ہماری دعا ہے ادب سے محبت کرنے والے ہمیشہ باہم شیر و شکر رہیں۔۔امین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں