دماغی صحت کا حال بتانے والی والی گیند ایجاد

برطانیہ میں ایک پی ایچ ڈی طالبعلم نے ایک نرم گیند بنائی ہے جو ہاتھ میں آتے ہی سانس کے اتار چڑھاؤ اور اس میں ربط کو دیکھتے ہوئے دماغی صحت کی پیشگوئی کرسکتی ہے۔جامعہ باتھ کے طالبعلم، ایلیکس فیرل شعبہ کمپیوٹرسائنس سے وابستہ ہیں۔ اس گیند کو ہاتھ میں لیتے ہیں تو یہ آپ کے سانس لینے اور خارج کرنے کے انداز اور دورانیے کے تحت خود اسی حالت میں آجاتی ہے۔ اس سے ذہنی صحت پر اچھا اثر پڑتا ہے۔ اس طرح گیند سانس لینے کے عمل کو بہتر بناتی ہے۔ماہرین کا اصرار ہے کہ سانس لینے کا عمل بہت ہی اہم ہے جسے ہم نظر انداز کردیتے ہیں۔ اگرہم مکمل یکسوئی کے ساتھ گہرے سانس لیں تو اس سے بے چینی دور ہوتی ہے اور پورے جسم پر خوشگوار اثر پڑتا ہے۔ مشکل وقت ، گھبراہٹ اور بے چینی میں گہرے سانس لینے سے بہت سکون ملتا ہے اور ماہرین اسے باقاعدہ طور پر تجویز کرتے ہیں۔جن مریضوں کو گیند دی گئی ان کی بے چینی (اینزائٹی) میں 75 فیصد کمی ہوئی۔ پریشانی والی سوچ میں 56 فیصد کمی ہوئی۔اس گیند کو فزیکل آرٹفیکٹ فور ویل بینگ سپورٹ (پی اے ڈبلیو ایس) کا نام دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں