یہ وہم ہے (ندیم رضا)

“خود کو میں پہچانتا ہوں” یہ اہم ہے
“میں سبھی کچھ جانتا ہوں” یہ وہم ہے
اہم اور وہم کو جس طرح شاعر زبیر صدیقی نے اپنے اشعار میں استعمال کیا ہے اس کا کوئی جواب نہیں۔ یہ کلام شاعر نے کب لکھا ہو گا نہیں معلوم لیکن پاکستان کے ماضی اور حال کے ایوانوں، عدلیہ، اداروں اور از خود چوتھے ستون سے دن رات یہی راگنی الاپی جاتی رہی ہے۔ میرے بعد پاکستان کا اور اداروں کا کیا ہو گا۔ سابق صدر پرویز مشرف کو جب اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تو جاتے ہوئے انہوں نے ناجانے کس زوم میں کہا تھا کہ “پاکستان کا تو خدا ہی حافظ ہے”۔ شکر ہے خدا کا پاکستان اب بھی قائم و دائم ہے اور کسی کے جانے یا آنے سے اس پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ وطن عزیز رہتی دنیا تک کرہ عرض پر نیچے اوپر چمکتا دمکتا رہے گا۔ خود کو پہچاننے اور خود ہی کو سبھی کچھ کہنے سمجھنےمیں زمین اور آسمان جیسا فرق ہے۔
انسان طاقت کے نشہ میں سب کچھ بھول جاتا ہے۔ اختیار ملنے پرخود کو نجاد دہندہ کھلانے لگتا ہے۔ تکبر اور غرور اسے اپنوں سے بھی دور کر دیتا ہے۔ کچھ لوگ وقتی فائدہ لینے کے لیے بظاہر تو ساتھ کھڑے ہوتے ہیں لیکن دل ایسے لوگوں کے ساتھ نہیں دھڑکتا۔ تحریک انصاف حکومت میں آنے سے پہلے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ حکومت کی کمزوریوں پر بیان بازیاں، پریس کانفرنسیں، احتجاج اور دھرنے دیتی رہی۔ کرپشن کے مقبول عام نعرہ کی احتجاجی سیاست نے عمران خان کی سیاسی جماعت کو عوام باالخصوص نوجوانوں میں مقبول کردیا۔ مہنگائی ہو یا لوڈشیڈنگ انہیں بس کوئی نہ کوئی مسئِلہ چاہیے ہوتا تھا۔ باالاخر عوام نے انہیں 2018 کے انتخابات میں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچادیا۔ حکومت بھی بن گئی اور مضبوط ترین اپوزیشن منتشر رہی۔ پارلیمنٹ کے اندر باہر تحریک انصاف کو مزاحمت کا سامنا بھی نہیں رہا جیسا کہ ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کو رہا۔ اس کے باوجود مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھتے ہی چلے گئے۔ اب اپنی مہنگائی اور سہولتوں کی عدم فراہمی بھی تحریک انصاف عوام کے مفاد میں ہی ٹہررہی ہے۔ اس پر بھی کہا جاتا ہے کہ ہم سب جانتے ہیں لیکن دراصل یہ ان کا وہم ہے۔
سیاستدانوں کی طرح سبھی کو یہ وہم ہوتا ہے کہ ان کے بغیر ادارے نہیں چل سکتے۔ وہ اداروں کی ترقی اور ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہیں ہمیشہ جوانی جیسی صحت کے ساتھ زندہ رہنا ہے اور وہی ادارے چلاتے رہیں گے۔ کام کے بارے میں سطحی معلومات پلے ہوتی ہیں لیکن ظاہر کیا جاتا ہے کہ اوپر سے لے کر نیچے تک انہیں سب کچھ پتا ہے۔ پاکستان میں ان جیسا کوئی کام نہیں کر سکتا۔ ان کی عدم موجودگی میں ادارے تباہ ہو جائیں گے۔ حقیقت میں ان کی موجودگی ہی میں ادارے تباہ ہو جاتے ہیں۔ سونے پہ سہاگہ مشیران خاص کا فرسٹ فلور بھی خالی ہوتا ہے۔ پاکستان اسٹیل، پی آئی اے، کے ای ایس سی اور ایسے ہی اداروں کی لمبی فہرست وہم کے شکار لوگوں کی وجہ سے تباہ و برباد ہو چکے ہیں۔ جیسا کہ آئی جی پنجاب، آئی جی خیبرپختونخواہ، چیف سیکریٹری خیبرپختونخواہ اور اقتصادی مشاورتی کونسل کا حشر اس کی مزید مثالیں ہیں۔ موقع کی مناسبت یہاں الیکٹرانک میڈیا انڈسٹری کے بڑے نام اظہر عباس صاحب کے ٹوئیٹ کا ذکر بھی ضروری ہے۔ “اداروں کی بری انتظامیہ کی وجہ سے اچھے ملازمین ساتھ چھوڑ جاتےہیں ۔
یہ باتیں تھیں وہم کے شکار افراد کی جو شور شرابے اور ڈرم بیٹنگ کے ذریعے سب کو مرعوب اور زیر کرنے میں سارا وقت صرف کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ خالی ڈبے میں پتھر ڈال کر اسے ہلایا جائے تو اس کی آواز گونجتی رہے گی ۔ خالی ڈبے کے شور میں کام کرنے والوں کی آواز دب جاتی ہے اور پھر وہ اس پر کہتے رہتے ہیں دیکھا کیسا سیدھا کر دیا ہے میں نے۔ اس کے برخلاف بھرے ہوئے ڈبے کی آواز نہیں آئے گی کیونکہ وہ خالی نہیں ہے۔ آپ سمجھ تو گئے ہوں گے اگر نہیں سمجھ آئی تو تصوریر کا دوسرا رخ بھی دیکھ لیں۔ مثلا ڈاکٹر ادیب رضوی، مرحوم ایدھی صاحب اورکئی نامعلوم خاموش رضاکار جنہوں نے انتہائی خاموشی کے ساتھ ملک و قوم کی دن رات محنت کی۔ شور شرابے سے اجتناب کیا۔ خاموشی کی بنیادی وجہ احساس زمہ داری اور کسی پر احسان کا ٹوکرا مسلط کرنا مقصوط نہ تھا۔ ایسے لوگوں کا مطمہ نظر صرف اور صرف انسانیت کی خدمت کرنا اور ادارے بنانا ہوتا ہے پوائنٹ اسکورنگ سے انہیں کوئی غرض نہیں ہوتی۔ خاموشی سے بڑا بڑا کام کر جاتے ہیں اور لوگوں کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ اس کام کے پیچھے کون ہے۔ حقیقی لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ اپنے شعبوں پر عبور رکھنے والے لوگوں کو اپنی اور دوسروں کی عزت و زلت کا بھی احساس سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اسے لیے کہا جاتا ہے کہ پھل دار اور سایہ داردرخت ہمیشہ جھکا رہتا ہے۔ بے مصرف اور غیرلچکدار درخت جلد جھڑ جاتاہے۔
“ہے ضروت مجھ کو سب کی” یہ اہم ہے
“ہوں ضرورت میں تو سب کی” یہ وہم ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں